قاہرہ :غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے والے ایک اسکول پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے، غزہ کی حماس حکومت نے ہفتے کو تصدیق کی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حماس کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
حماس کے میڈیا آفس نے بتایا کہ یہ حملے اس وقت ہوئے جب اسکول میں پناہ لینے والے افراد فجر کی نماز ادا کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں شہادتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ میڈیا آفس کے مطابق، طبی عملہ ابھی تک تمام لاشوں تک نہیں پہنچ سکا۔
غزہ کے محکمہ صحت کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے فضائی حملے کا ہدف حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تھے، جہاں حماس کے کمانڈرز اور کارکنان چھپے ہوئے تھے۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے مستقبل گولہ باری، فضائی نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کا استعمال کیا گیا۔ تاہم، غزہ میں ہونے والے جانی نقصان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ پر اپنی جارحیت کا آغاز کیا تھا، جس میں 1,200 افرادہلاک ہوئے اور 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تقریباً 40ہزار فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں عام شہری شامل ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جبکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ شہید ہونے والے فلسطینیوں میں سے کم از کم ایک تہائی جنگجو تھے۔ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل نے بھی 329 افراد کو کھو دیا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ، مصر اور قطر غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران اور اس کی اتحادی حزب اللہ کے ساتھ ایک وسیع تر تنازعے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایران بھی حماس کی حمایت کرتا ہے۔

