حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ملک بھر میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کیلیے معاشرے کو قابل بنانے کے لیے میٹا میٹا ریسرچ انٹرنیشنل نیدرلینڈ اور ڈچ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ سرج سپورٹ پروگرام کی جانب سے ایک مقامی ہوٹل میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ایک مکالمے کا پروگرام منعقد کیا گیا جس میں آبی ماہرین نے پاکستان اور سندھ کو سیلاب سے بچانے کے لیے قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی پانی کے بہاؤ اور نئی بستیوں کی وجہ سے سندھ کو سیلاب کا بڑا خطرہ ہے جس کی روک تھام کیلیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ڈائیلاگ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سندھ واٹر سیکٹر اینڈ بیراج امپروومنٹ پروگرام نذیر احمد اور عالمی آبی ماہر ڈاکٹر فرینک اسٹین برجن نے کہا کہ معاشرے کو سیلاب سے بچانے کے لیے ہمیں بہتر اقدامات کرنا ہوں گے، حالانکہ نہ صرف بارشیں بلکہ ہمارا ڈرینیج نظام بھی تباہی کی وجہ بن رہا ہے۔جس کو موسمیات تبدیلی سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پانی کی گزرگاہوں کو فعال بنا کر ہم معاشرے کو سیلاب سے بچا سکتے ہیں۔ ڈی جے نذیر احمد نے سیلاب سے بچاؤ کے لیے معاشرے کو مضبوط کرنے کے لیے اس قسم کے پروگرام کے انعقاد پر میٹا کی تعریف کی۔ غلام مصطفیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی زمین سیدھی ہے جس میں سلیپ کی ضرورت ہے تاکہ سیلاب کے پانی کو نکالا جاسکے۔ مشتاق میرانی نے کہا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو بحال کرنا بہت ضروری ہے۔ پی ڈی ایم اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اجے کمار نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر ان کی ادارے نے پہلے ہی صوبے میں امدادی سامان فراہم کردیا ہے۔ اس موقع پر اشفاق سومرو، ڈاکٹر علی اکبر ہنگورجو، پروفیسر نواز کنبھر، سروان بلوچ، ظفر منگی، علی اصغر لاکہو، رخسانہ جروار، فرزانہ برڑو، صابر حسین مہر، عباس کھوسو اور دیگر نے بھی سیلاب سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
