English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلا دیش کے عبوری وزیر اعظم نے ہندو نوجوانوں کو بات چیت کے لیے طلب کرلیا

بنگلا دیش کے عبوری وزیرِاعظم ڈاکٹر محمد یونس نے ملک میں ہندوؤں پر حملوں کے تناظر میں معاملات درست کرنے کی غرض سے ہندو نوجوانوں کے ایک وفد کو ملاقات کی دعوت دی ہے۔ اس ملاقات میں ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے تحفظات دور کرنے کے حوالے سے گفت و شنید ہوگی۔

بنگلا دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد مشتعل عوام اُن لوگوں پر حملے کر رہے ہیں جنہوں نے شیخ حسینہ کے دور میں کرپشن کی تھی یا سرکاری عہدے حاصل کرکے بے مثال مراعات بٹوری تھیں۔

عوامی لیگ ابتدا ہی سے بھارت نواز رہی ہے۔ وہ بنگلا دیشی ہندوؤں کے لیے بھی زیادہ قابلِ قبول رہی ہے۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنانے کی سازش میں بھارت نے عوامی لیگ کا سازش اور اس پر عمل تک بھرپور ساتھ دیا تھا۔ بھارت کی احسان مند ہونے کے حوالے سے عوامی لیگ ہمیشہ اُس کی طرف جُھکی رہی ہے۔

حال ہی میں ختم ہونے والے عوامی لیگ کے پندرہ سالہ اقتدار کے دوران بھی عوامی لیگ سے جُڑے ہوئے ہندوؤں نے جی بھرکے کرپشن اور بدمعاشی کی۔ اب ملک میں لوگ بپھرے ہوئے ہیں اور عوامی لیگ کے دور میں قومی خزانے کی لُوٹ مار میں شریک تمام لوگوں کو سبق سکھا رہے ہیں۔ عوامی لیگ سے وابستہ کرپٹ عناصر کو بلا امتیاز نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اِن میں ہندو بھی شامل ہیں۔

بھارت نے اپنی میڈیا پروپیگنڈا مشینری بنگلا دیش میں ہندوؤں پر مظالم ڈھائے جانے کا واویلا مچانے پر لگادی ہے۔ بھارتی میڈیا میں یومیہ بنیاد پر بنگلا دیش کے ہندوؤں پر ڈھائے جانے والے “مظالم” کی رپورٹس شائع ہو رہی ہیں۔

بھارت اپنے ہم خیال ممالک سے مل کر بنگلا دیش پر دباؤ ڈال رہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ بنگلا دیش میں حکومت کی تبدیلی دراصل اسلامی شدت پسندی کو فروغ دینے کے لیے ہے اور وہاں کی اقلیتیں اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے بھی بنگلا دیش کے ہندوؤں کے حق میں بیان آگیا ہے جبکہ انگلینڈ کے طول و عرض میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور مساجد پر حملوں کے بیسیوں تازہ واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کو ایک مذمتی بیان جاری کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے