English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 جماعت اسلامی نے تاجر گروپوں کے ساتھ احتجاج کی کال دے دی 

راولپنڈی میں دو ہفتے طویل دھرنا ملتوی کرنے کے چند روز بعد، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے تاجر برادری کے ساتھ مل کر نئے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “تاجروں سے مشاورت جاری ہے، اور ہمارے پاس مختلف آپشنز ہیں، ہم تاجر اداروں کے ساتھ مل کر پرامن احتجاج کریں گے۔”

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب جماعت اسلامی نے گزشتہ ہفتے حکومت کے ساتھ بجلی کے بڑھتے نرخوں میں کمی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والوں (IPPs) کے معاہدوں پر نظرثانی کے مطالبات پر کامیاب مذاکرات کے بعد اپنا 14 روزہ دھرنا عارضی طور پر موخر کر دیا تھا۔ حافظ نعیم نے خبردار کیا کہ “ہم دھرنا موخر کر رہے ہیں، ختم نہیں کر رہے۔ اگر حکومت نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو ہم دوبارہ سڑکوں پر آئیں گے۔”

یہ فیصلہ جماعت اسلامی کے وفد، جس کی قیادت لیاقت بلوچ کر رہے تھے، اور حکومتی ٹیم کے درمیان کئی دور کی بات چیت کے بعد ہوا۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے جس کا نتیجہ ایک معاہدے پر پہنچا تھا جس کو حکومت کی جانب سے تکمیل تک پہنچانا تھا ۔

پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم نے ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر حکمرانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی حالت خراب ہے، سندھ میں ڈاکو راج کر رہے ہیں، اور پنجاب کی صورتحال پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہو چکی ہے۔”

ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ “80 فیصد نوجوان ملک چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ عوام پر بڑھتے ہوئے ٹیکس بوجھ نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

انہوں نے تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے معاہدے پر عمل نہ کیا تو جماعت اسلامی ایک بار پھر احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔ “حکومت کے پاس 40 دن باقی ہیں، ہمارے پاس احتجاج کے کئی آپشنز موجود ہیں۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے