
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بجلی کے بھاری بلوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے صرف پنجاب میں 2ماہ کے لیے 14روپے فی یونٹ کمی کے بجائے پورے ملک میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی جائے ۔ آئی پی پیز کا سلسلہ 1994ء سے چل رہاہے ۔2013ء سے 2018ء کے درمیان اور اس کے بعد بھی آئی پی پیز سے عوام دشمن معاہدے کیے گئے ، آئی پی پیز کا بھاری بوجھ ڈالنے میں پیپلز پارٹی ، نواز لیگ ، ق لیگ اور پی ٹی آئی کی حکومتوں کا حصہ ہے،عوام اب ان کیپیسٹی چارجز کا بھاری بوجھ مزید نہیں اُٹھا سکتے ۔ حکومت نے جماعت اسلامی سے معاہدے کے مطابق عوام کو ریلیف نہ دیا تو ملک بھر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیے جائیں گے ۔28 اگست کو ملک گیر شٹر ہڑتال ہوگی ۔اس کے بعد ہم بڑے پیمانے پر عوامی رابطہ مہم شروع کررہے ہیں ،ممبرز بنائیں گے، کمیٹیاں بنائیں گے جن میں نوجوانوں کو شامل کریں گے ۔ کے الیکٹرک ، نیپرا اور حکومت کا ایک شیطانی اتحاد ہے جو کراچی کے عوام کے خلاف بنا ہوا ہے ، کے الیکٹرک کو ہر حکومت اور حکمران پارٹی نے سپورٹ کیا ہے ۔ سب سے زیادہ بوسیدہ پلانٹ اور لائن لاسز کے الیکٹرک کے ہیں ، اس کے باوجود اسے نواز جا رہاہے ۔ سندھ حکومت نے سارے اختیارات اور وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے ، تمام ترقیاتی اتھارٹیز سندھ حکومت کے پاس ہیں ، آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو انتظامی و مالی اختیارات منتقل نہیں کیے گئے ، واٹر کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بھی ٹائون کے ماتحت نہیں ۔ کراچی میں پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کا سارا نظام تباہ حال ہے ، قابض میئر اور صوبائی وزیر بلدیات کی نا اہلی کی سزا کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں ، سندھ حکومت این ایف سی ایوارڈ سے تو اپنا حصہ وصول کر لیتی ہے لیکن پی ایف سی ایوارڈ جاری نہیں کرتی ۔ کراچی کی اسکیموں کے لیے صرف 1.6 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جو سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے عوامی مسائل کے حوالے سے سنجیدگی ظاہر کرتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی،امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان، بلدیہ عظمی کراچی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر و نائب امیر کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ ، بلدیہ عظمیٰ میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈرقاضی صدر الدین ، امیر ضلع کورنگی و ٹائون ناظم لانڈھی عبد الجمیل خان ،لیاقت آباد کے ٹائون چیئر مین فراز حسیب ،گلشن اقبال ٹائون کے چیئر مین ڈاکٹر فواد ،امیر ضلع شمالی وٹائون چیئر مین نیو کراچی محمد یوسف ، جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،ماڈل کالونی ٹائون چیئر مین ظفر خان ، جناح ٹائون چیئر مین رضوان عبد السمیع ، گلبرگ ٹائون چیئر مین نصر ت اللہ ، ناظم آباد ٹائون چیئر مین محمد مظفر ، نارتھ ناظم آباد ٹائون چیئر مین عاطف خان و دیگر بھی موجودتھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کو عام انتخابات میں کراچی کے عوام نے مسترد کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود جعلی فارم 47کے ذریعے اسے بھی کراچی میں سیٹیں دے دی گئیں ، ایم کیو ایم ماضی میں ہر حکومت میں شامل رہی اور آج بھی حکومت کا حصہ ہے لیکن اس نے کراچی کے عوام کے لیے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیا اور آج بھی صرف بیانات دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کراچی سمیت پورے ملک میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں ، صنعت کار اور تاجر برادری سخت پریشان ہیں ، مہنگی بجلی کے باعث ملک میں شدید بحران آیا ہوا ہے اور روزانہ ہوشربا حقائق منظر عام پر آرہے ہیں کہ کس طرح آئی پی پیز کے معاہدے کیے گئے اور ملک کی معیشت تباہ کی گئی ، ہم آج بھی اس بجلی کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو نہ پیدا کی گئی اور نہ ہم نے استعمال کی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں بارش کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ، اربوں روپے کا بجٹ نا اہلی اور کرپشن کی نذر کر دیا گیا ۔ کراچی میں اربوں روپے سڑکوں کی تعمیر واستر کاری پر خرچ کیے گئے مگر بارش کے بعد کوئی سڑک اچھی حالت میں نہیں ہے ، جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں اور بارش کا پانی جمع ہے ، سیوریج کے مسائل بھی موجود ہیں ۔کلک کے تحت تعمیر شدہ سڑکیں بھی تباہ ہو گئی ہیں ، کراچی کے نام پر لیے گئے بیرونی قرضے کرپشن اور نا اہلی میں ضائع کردیے گئے ، سندھ حکومت نے ساری چیزو ں پر قبضہ کیا ہوا ہے ، جماعت اسلامی کے 9ٹائون چیئر مین دستیاب وسائل اور اختیارات سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں ، ٹائون اور یوسی کی سطح تک جس طرح اختیارات کو منتقل کیا جانا چاہیے تھا وہ نہیں کیا گیا ۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا عملہ ٹائون کے ماتحت نہیں ہے ، ٹھیکیداری نظام چل رہا ہے ، کبھی ایک کمپنی کو ٹھیکا دیتے ہیں اور کبھی دوسری کو ، لیکن ٹائون کو اختیارات نہیں دیتے ۔ بڑے بڑے نالوں کی صفائی کا اختیار بھی ٹائون کے پاس نہیں ، کے ایم سی کو نالوں کی صفائی کرنی چاہیے تھی مگر نہیں کی گئی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کی جدو جہد جاری رکھے گی ، کراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ جماعت اسلامی کو دیے اور جماعت اسلامی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور میئر شپ پر بھی قبضہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی پہلے تو بلدیاتی انتخابات کرانا ہی نہیں چاہتی تھی اور اب فاشسٹ طریقے سے بلدیاتی نظام چلا رہی ہے ،بدقسمتی سے پورے ملک میں بلدیاتی حکومتوں کے ساتھ صوبائی حکومتوں کو رویہ اور طرزِ عمل غیر آئینی و غیرجمہوری رہا ہے اور مقامی حکومتوں کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ۔
