سابق امریکی صدر ولیم جیفرسن کلنٹن نے کہا ہے کہ ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو متوازن بھی ہو اور معقول بھی۔ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کی شکل میں ملک کو ایک ایسی لیڈر مل سکتی ہے جو معاملات کو سنجیدگی اور بُرد باری کے ساتھ ساتھ تیزی سے بھی چلائے گی۔
بل کلنٹن نے شکاگو میں ڈیموکریٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ووٹرز کی پریشانی یا تذبذب اب ختم ہوچکا ہے۔ وہ اپنا ووٹ بہترین امیدوار کو دے سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کملا ہیرس ہر اعتبار سے معقول اور معیاری انتخاب ہوں گی۔
بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور میں ملک کو شدید انتشار سے دوچار کیا۔ وہ اس بات کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے کہ صدر کی حیثیت سے اُنہیں کیا بولنا چاہیے اور کیا نہیں بولنا چاہیے۔ اُن کے دور میں امریکی پالیسیاں شدید عدمِ توازن کا شکار رہیں۔ انہوں نے انتشار کو پیدا کیا اور پھر پروان چڑھایا۔ اب اِس کی بالکل گنجائش نہیں۔ امریکی ووٹرز کو فیصلہ کرلینا چاہیے۔ اُنہیں اس بات کا بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں بہت سے کلیدی فیصلوں کا مدار امریکا کی پالیسیوں پر ہے۔ ایسے میں اگر امریکی ایوانِ صدر میں کوئی غیر متوازن شخصیت ہوگی تو معاملات بہت تیزی سے مزید خرابی بلکہ پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جائیں گے۔
شکاگو میں جاری ڈیموکریٹ کنونشن سے سابق امریکی صدر براک اوباما بھی خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے بھی ٹرمپ پر شدید نکتہ چینی کی اور امریکی ووٹرز سے کہا کہ وہ جذباتی ہوئے بغیر سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ ان کی اہلیہ مشل اوباما نے بھی ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کملا ہیرس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے بھی کملا ہیرس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 99 سالہ جمی کارٹر کا کہنا ہے کہ اُنہیں پولنگ ڈے کا شدت سے انتظار ہے کیونکہ وہ کملا ہیرس کے حق میں ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے ہیں۔ جمی کارٹر کی موت کی افواہ کئی بار اُڑی ہے اور ہر بار اُنہیں اپنی تازہ ترین وڈیو کے ساتھ وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔

