
نئی دہلی ؍ ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست تریپورا میں بارش کے باعث مختلف حادثات میں 10 افراد ہلاک اور کئی لاپتا ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق تریپورا میں سیلاب سے نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ سیلابی صورتحال کے باعث 8 اضلاع سے34 ہزار افراد اپنے گھر چھوڑ کر شیلٹر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے جبکہ سیلاب سے ایک ہزار کے قریب گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کے دوران مختلف واقعات میں 12 سالہ بچی سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی حکام کا کہناہے کہ ٹرین کی پٹڑیاں سیلاب میں ڈوبنے کی وجہ سے ٹرین کا نظام بھی بری طرح متاثر ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب بنگلا دیش میں بھی مون سون بارش نے تباہی مچادی اور سیلاب سے 2 افراد ہلاک اور 30 لاکھ متاثر ہوئے ۔ ملک بھر میں کئی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ گھروں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب سے گھروں، مویشیوں، دکانوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ۔ متاثرہ علاقوں میں مولوی بازار، ہبی گنج، کومیلا، چٹاگنگ اور فینی شامل ہیں، جہاں سے 5 بڑے دریا گزرتے ہیں۔ زمینی رابطے منقطع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کو اس وقت 20برس کے دوران بدترین حالات کا سامنا ہے۔ ادھر طلبہ تنظیموں کی جانب سے بھارت پر ڈیم کا پانی چھوڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔اس حوالے سے طلبہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گومتی دریا پر موجود دمبر ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کی خبر بے بنیاد ہے۔ واضح رہے گومتی دریا شمالی مشرقی بھارتی ریاست تری پورا پر واقع ہے، جو کہ بنگلا دیش کی سرحد کو لگتا ہے۔
