ہم ٹیکنالوجیز کے دور میں جی رہے ہیں۔ ٹیکنالوجیز ہمارے لیے آسانیاں بھی پیدا کر رہی ہیں اور مشکلات بھی کھڑی کر رہی ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اب بہت کچھ ہے جو ہے تو سہی مگر نہیں ہے۔ سائبر اسپیس میں ایسا بہت کچھ دکھائی دیتا ہے جو در حقیقت نہیں پایا جاتا۔
ہر دور اپنے ساتھ کچھ آسانیاں اور کچھ مشکلات لے کر آتا ہے۔ ہمارا دور بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں عقل کو دنگ کردینے والی پیش رفت ممکن بنائی جاچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارے لیے بہت سی ایسی الجھنیں پیدا ہوئی ہیں جن کے باعث زندگی دشوار تر ہوئی جاتی ہے۔
کچھ دن قبل کارساز کے حادثے میں باپ بیٹی کے جاں بحق ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا خبروں سے بھرگیا۔ اس حادثے کی ملزمہ نتاشہ اقبال کے حوالے سے اب تک بہت سی باتیں ہی جارہی ہیں۔ اب مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاکر بھی بہت کچھ کہا اور کیا جارہا ہے۔
نتاشہ اقبال کے بارے میں قوم اچھی طرح جان چکی ہے کہ وہ بہت بڑے کاروباری خاندان کی ہے اس لیے اِس کیس میں اُس کے پھنسنے کا امکان برائے نام ہے۔ یہ معاملہ بھی بالآخر دیت پر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
چند روز قبل نتاشہ اقبال کی ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں اُسے سپریم کورٹ کے باہر وکٹری کا نشانہ بناکر ہنستے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ نتاشہ اقبال کی یہ تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انتہائی تیز رفتاری سے گردش کرتی رہی ہے۔ عام آدمی کی طرح بہت سے سینیر صحافی بھی جھانسے میں آگئے اور اس تصویر کو اپنے کمنٹس کے ساتھ شیئر کیا۔
سنیر صحافیوں میں عاصمہ شیرازی اور حامد میر نے بھی اس تصویر کو شیئر کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ جب حقیقت کا پتا چلا تو عاصمہ شیرازی نے معذرت کرتے ہوئے تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کردی۔
اب معلوم ہوا ہے کہ یہ تصویر فیک یعنی جعلی ہے۔ ویسے تو کسی بھی تصویر کی اصلیت جاننے کے لیے اب متعلقہ ٹیکنالوجی سے مدد لی جاسکتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تصویر کو غور سے دیکھنے پر بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ جعلی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی جانے والی ہر تصویر الگ دکھائی دیتی ہے۔ اُس میں سب کچھ معقول نہیں ہوتا۔ بیک گراؤنڈ دُھندلا اور مبہم ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بہت کچھ بناسکتی ہے مگر پھر بھی اُس میں اب تک اِتنا دم خم نہیں کہ ہر اعتبار سے بے داغ تصویر بناکر لوگوں کو الجھن میں ڈال دے۔
نتاشہ گل کی تصویر کو بھی غور سے دیکھیے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اِس میں اچھی خاصی گڑبڑ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کراچی کا کیس ہے تو نتاشہ اقبال سپریم کورٹ کے باہر کیا کر رہی ہے۔ ویسے بھی مقدمہ ٹرائل کورٹ میں چلایا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ تو بنیادی طور پر اپیل کورٹ ہوتی ہے۔
کسی بھی فیک تصویر میں تمام چیزیں متوازن ہوتیں۔ اگر چہرہ چپکایا گیا ہو تو باقی جسم غیر متوازن دکھائی دیتا ہے۔ پوری توجہ سے دیکھنے پر کسی بھی تصویر کے بارے میں بتایا جاسکتا ہے کہ اُس میں کس حد تک گڑبڑ کی گئی ہے۔ بہت سے معاملات میں لگتا ہے دال میں کچھ کالا ہے جبکہ بعض معاملات میں تو پوری دال ہی کالی نکلتی ہے۔

