لاہو ر(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سیاسی قومی اُمور قائمہ کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ آج کی ملک گیر ہڑتال غریب عوام، دکانداروں، تاجروں، صنعت کاروں اور بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے پر حکمرانوں کو مجبور کردے گی۔ کسی قسم کا کوئی سنسنی خیز حربہ یا ریاستی طاقت سے شٹرڈاؤن ہڑتال کو روکنے کا اقدام حکومت کو مہنگا پڑے گا۔ حکومت شٹرڈاؤن ہڑتال کا پیغام سُنے، ملک کو فساد اور انارکی کی طرف نہ دھکیلے۔ عوام پُرامن احتجاج کریں گے، تاجر برادری شٹرپاور سے حکومت کے مزاج کودرست کردے گی۔ اب عام آدمی خصوصاً سفید پوش اور تنخوار دار طبقے کے لیے باعزت زندگی گزارنا ناممکن ہوگیا ہے۔ مہنگی بجلی، ٹیکسوں کا انبار اور آئی پی پیز مالکان کی سنگ دِلی و خودغرضی ملک و ملت کے لیے عذاب بن گیا ہے۔ ریاست غریب تر ہورہی ہے اور ریاست کا بااختیار مفت خور طبقہ عیاشیوں سے باز نہیں آرہا۔ دھرنا، ملک بھر میں عوامی مسائل پر جلسوں کے بعد ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال اگلے مراحل کے فیصلوں کے لیے فیصلہ کن نقطہ آغاز ہوگا۔راولپنڈی، لاہور اور اسلام آباد میں تاجر رہنماؤں اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے لیے ٹاسک فورس کے قائدین سے خطاب اور ملاقات میںلیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو باعزت زندگی دینے میں ناکام اور اب تو عوام کی جان مال عزت کا بھی کوئی محافظ نہیں۔ وفاقی، صوبائی حکومتیں، حکومتی اتحاد باہم بلیک میلنگ، مفاد کے حصول کے لیے نوراکشتی اور عوام کو دھوکا دینے میں مصروف ہیں۔ پی ٹی آئی کا اسلام آباد جلسہ منسوخ کرانے کے لیے حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور خیبرپختونخوا حکومت کی ملی بھگت ہوشربا ہے۔ سیاسی کارکنان کو تو مایوس ہے ہی لیکن یہ امر بھی پوری قوم پر عیاں ہوگیا کہ حکمران طبقہ اپنی سہولت کاری کے لیے ہر راستہ اختیار کرتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک پیج پر نہیں آسکتے۔ حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند کرنے، ملازمین کے معاشی قتل کے بجائے قومی ادارے کو تجارتی بنیاد پر منافع بخش بنائے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات پوری قوم کے لیے صدمہ بھی ہے اور ہوشربا بھی حکومتی رِٹ عملاً ختم ہوگئی ہے۔ فوج، سول انتظامیہ، سیکورٹی فورسز اور خفیہ حساس ادارے آخری دہشت گرد کے خاتمے میں کیوں ناکام ہیں؟ اِس ناکامی کو کوئی تو قبول کرے۔ بلوچستان میں دہشت گردی اور قوم پرستی کے لبادے میں تعصبات اور صوبائی، لسانی، علاقائی بنیاد پر انسانوں کی ٹارگٹ کلنگ قوم پرستی نہیں کُھلی دہشت گردی ہے۔ عوام مذہبی، لسانی، قوم پرستی اور علاقائیت کی بنیاد پر ہر دہشت گردی کو مسترد کرتی ہے۔
