English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بارش نے سڑکوں کی ناقص تعمیر،سندھ حکومت،کے ایم سی کی نااہلی و کرپشن واضح کردی،سیف الدین ایڈوکیٹ

القمر

کراچی(اسٹاف رپورٹر) نائب امیرجماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ کراچی میں بارش کے بعد پیدا شدہ صورتحال نے شہر میں سڑکوں کی ناقص تعمیر اور سندھ حکومت و کے ایم سی کی نا اہلی و کرپشن واضح کر دی ہے ، گزشتہ دنوں تعمیر ہوئی سڑکوں کی استر کاری سمیت نو تعمیر شدہ سڑ کیں بھی جگہ جگہ سے ادھڑ گئیں ہیں اور ان میں گڑھے پڑ گئے ہیں ، تباہ حال سڑکوں میں CLICKکے تحت تعمیر ہونے والی سڑکیں بھی شامل ہیں ، جہانگیر روڈ کئی بار تعمیر ہوئی لیکن آج بھی تباہ حال ہے ،قابض میئر کوئی بات سننے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں ،کراچی کے نام پر لیے گئے قرضے اور ترقیاتی فنڈز ضائع کیے جارہے ہیں اور کرپشن کی نذر
ہورہے ہیں،کلک اور بلدیہ کراچی نے اربوں روپے برباد کردیے ،قابض میئر ان اربوں روپے کی بربادی اور ناقص کاموں کی ذمے داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر میں ہونے والی کرپشن ، نا اہلی اور ناقص تعمیر کی تحقیقات کرائی جائیںاور اس عمل میں ملوث افراد اور ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ،سیف الدین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ کراچی میں تھوڑی سی بارش میں شہر کی بیشتر سڑکیں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں ، جگہ جگہ گڑھے پڑنے سے بارش کا پانی جمع ہو گیا ہے اور روزانہ لاکھوں شہریوں کو دوران سفر شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، شہری تھوڑا سا سفر بھی کئی کئی گھنٹوں میں طے کر پاتے ہیں اور ٹریفک جام کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں ،صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کے باعث جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں اور سیوریج کا پانی جمع ہے ، پورا شہر کھنڈر کا نقشہ پیش کر رہا ہے ، قابض میئر نے صرف اپنے دفتر سے اپنی رہائش گاہ ڈیفنس تک کے علاقے کو کراچی سمجھ لیا ہے ، وہ نیو کراچی ، سرجانی ٹائون ، لانڈھی ، کورنگی ، اورنگی ٹائون اور لیاری جا کر دیکھیں کہ عوام کو کن مشکلات و پریشانیوں کا سامنا ہے ، کے ایم سی نے نالوں کی صفائی اور گٹر کے ڈھکن اپنے ذمے لیے لیکن اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی بارش کے دوران نالے بھر رہے ہیں اور جگہ جگہ مین ہولز بھی کھلے ہوئے ہیں ، ڈپٹی میئر کی یوسی میں کھلے مین ہولز میں گر کر کئی بچوں کی اموات ہو چکی ہیں ۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ حکومت اور قابض میئر ٹائون اور یوسیز کو اختیارات اور فنڈز فراہم نہیں کررہے،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر کارپوریشن کی چیئر مین شپ بھی قابض میئر کے پاس ہے ، پانی کی فراہمی اور صفائی ، ستھرائی کے نظام کو بہتر اور فعال کرنے کے لیے ان اداروں کا عملہ ٹائون اور یوسیز کے ماتحت ہونا چاہیے تھا مگر قابض میئر سارے اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور کے ایم سی کو بھی پیپلز پارٹی کی فسطائی سوچ کے مطابق ڈکٹیٹر شپ کی طرح چلانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں ۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہر سال سڑکوں کی تعمیر اور استر کاری پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود شہر میں معیاری اور مضبوط سڑکیں عملاً نا پید ہیں ۔ کراچی صوبہ سندھ کے بجٹ کا 90فیصد حصہ فراہم کرتا ہے ، کراچی کے عوام ، تاجر اور صنعت کار سوال کرتے ہیں کہ ہمارے ٹیکس دینے کے باوجود ہمارے شہر میں معیاری سڑکیں تعمیر کیوں نہیں ہوتیں اور شہر کا انفرا اسٹرکچر کیوں بہتر نہیں کیا جاتا ؟۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے