English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تیسری عالمی جنگ خارج از امکان نہیں، برطانوی ماہر

معروف برطانوی تاریخ دان رچرڈ اووری نے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ خارج از امکان نہیں اور کسی بھی وقت چِھڑسکتی ہے۔ عالمی سطح پر حالات اِتنی تیزی سے بگڑ رہے ہیں کہ کوئی بھی بڑا واقعہ ایک ایسی جنگ کی راہ ہموار کرسکتا ہے جسے روکنا کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہ ہوگا۔

رچرڈ اووری کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایران ایٹمی ہتھیار بنانے پر تُلا ہوا ہے اور دوسری طرف روس کو اپنی طاقت منوانے کی پڑی ہے۔ چین بھی خطرناک حد تک طاقتور ہوچکا ہے۔ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنالیے تو امریکا اس بات کو برداشت نہیں کرسکے گا اور ایران پر حملہ کردے گا۔ یہ بات روس اور شمالی کوریا سے گوارا نہ ہوگی اور وہ ایران کی مدد کے لیے میدان میں آجائیں گے۔ یوں چین کے لیے بھی غیر جانب دار رہنا ممکن نہ رہے گا اور تیسری عالمی جنگ کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

اگر روس نے یوکرین نے اپنی پوزیشن کو مزید کمزور ہونے سے بچانے کے لیے مین لینڈ یورپ کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کی ٹھانی تو تیسری عالمی جنگ کو شروع ہونے میں زیادہ وقت نہ لگے گا۔ روس نے یوکرین سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو امریکا کے لیے غیر جانب دار رہنا ممکن نہ ہوگا۔ اس صورت میں بھی تیسری عالمی جنگ کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

چین اور یوکرین کے درمیان کشیدگی انتہائی نوعیت کی ہوچکی ہے۔ امریکا اور یورپ نے اب تک یہ بتانے میں بخل سے کام نہیں لیا کہ وہ کسی بھی خطرناک صورتِ حال میں تائیوان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کرکے اُسے اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا اور یورپ میدان میں آجائیں گے اور یوں تیسری عالمی جنگ کے چِھڑنے میں کوئی کسر نہ رہے گی۔

ان تین میں سے کوئی بھی صورت رونما ہونے پر باقی ملکوں کے لیے بھی غیر جانب دار ہنا ممکن نہ رہے گا کیونکہ وہ دو واضح بلاک بن کر رہیں گے۔ ایک طرف چین، روس، شمالی کوریا، ایران، ترکیہ وغیرہ ہوں گے اور دوسری طرف امریکا یورپ اور اُن کے ہم خیال ممالک۔ ایشیا اور وسطِ ایشیا کے ممالک فطری طور پر چین اور روس کا ساتھ دیں گے۔ دوسری طرف جنوبی امریکا اور افریقا کے لیے ممالک کے لیے یورپ اور امریکا کے ساتھ جانا فطری ہوگا۔ اگر افریقا نے چین اور روس کے بلاک کا ساتھ دینا قبول کیا تو امریکا اور یورپ کے لیے انتہائی خطرناک صورتِ حال پیدا ہوگی۔

یہ سب کچھ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ سفارت کاری بہت حد تک دم توڑ چکی ہے۔ کئی خطوں میں طاقت کا گندا کھی اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کو جس طور موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے اُس کے نتیجے میں ردِعمل بھی پیدا ہوگا جو طویل المیعاد ہوگا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے صورتِ حال خطرناک رہے گی۔

امریکا اور یورپ کے لیے بھی یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔ روس، چین اور شمالی کوریا جیسے ممالک تو بہت کچھ طے کیے بیٹھے ہیں۔ اب امریکا اور یورپ کو بھی بہت کچھ طے کرنا ہے۔ اگر وہ تذبذب کا شکار رہیں گے تو معاملات مزید بگڑیں گے۔

تیسری عالمی جنگ اگر چِھڑ گئی تو کوئی بھی اُسے روک نہیں پائے گا۔ ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی خارج از امکان نہیں۔ امریکا، یورپ، روس اور چین کے پاس بڑے پیمانے پر ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اگر یہ ہتھیار استعمال ہوئے تو دنیا بھر میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی واقع ہوگی۔

دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے والا لیڈر اس وقت کوئی نہیں۔ دنیا بھر مٰں قیادتیں پست ذہنیت والے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اُن کی محدود سوچ معاملات کو مزید خرابی کی طرف جارہی ہے۔

امریکا کے سابق صدر یہ بے ڈھنگا دعوٰی کرتے آئے ہیں کہ صرف وہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچاسکتے ہیں اور امریکا کی تباہی روک سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیسری عالمی جنگ کو ٹالنا بظاہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ معاملات محض بڑی خرابیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ طاقت کا کھیل خطرناک ترین شکل اختیار کرچکا ہے۔ معاشی اور اسٹریٹجک مفادات نے سب کچھ ہڑپ کرلیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے