English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت میں خواتین سے زیادتی کی وڈیوز کی طلب میں اضافہ

بھارت میں خواتین سے زیادتی کے کیس بڑھتے جارہے ہیں۔ بچیوں کو بھی نہیں بخشا جارہا۔ ملک بھر میں اخلاقی سطح خطرناک حد تک گرچکی ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلور، حیدر آباد اور دوسرے بڑے شہروں میں معاملات بہت خراب ہیں۔

ملک کے طول و عرض میں زیاتی اور قتل کے بڑھتے ہوئے کیس پولیس اور حکومت دونوں کے لیے انتہائی پریشان کن اور شرم کا باعث ہیں۔ کولکتہ کی ایک جونیر ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کے کیس نے پورے ملک میں حقوقِ نسواں کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کو ایک بار پھر پوری شدت سے فعال کردیا ہے۔

انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک طرف تو بچیوں اور جواں سال لڑکیوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے احتجاج بڑھ رہا ہے، کئی پروفیشنل کمیونٹیز اس معاملے میں مرکزی اور ریاستی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور دوسری طرف یہ شرم ناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ زیادتی کے واقعات کی اور اُس سے مطابقت رکھنے والی وڈیوز کا دھندا بھی عروج پر ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر زیادتی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر وڈیوز 12 پیسے فی کلپ کے نرخ پر شیئر کی جارہی ہیں۔ بہت سے پورٹلز یہ دھندا کُھل کر کر رہے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔ سائبر کرائمز کی روک تھام کے ادارے بھی اس حوالے سے کچھ خاص نہیں کر پارہے۔

زیادتی کے واقعات کی وڈیوز فروخت کرنے والے پورٹل اعلانات کرتے رہتے ہیں کہ کسی کو ایسی وڈیوز کا بنڈل چاہیے تو ایک خاص رقم ادا کرکے ڈاؤن لوڈ کرلے۔ ایسی وڈیوز فروخت کرنے والے ایک پورٹل کا پیغام سیل فون اسکرین پر نمودار ہوتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ 820 ویڈیوز صرف 99 روپے میں ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

ڈارک ویب کے مواد پر مبنی یہ پیکیجز درجہ بندی کے ساتھ ہیں۔ اگر کسی کو بچوں سے زیادتی کی وڈیوز دیکھنے کا شوق ہے تو اُس کے پیکیجز الگ ہیں۔ لڑکیوں سے زیادتی کی وڈیوز کے دام بھی الگ ہیں۔ بڑی عمر کی عورتوں سے زیادتی کی وڈیوز کم نرخ پر فروخت ہوتی ہیں۔

انٹرنیٹ کے سرچ انجنز کی ہسٹری بتاتی ہے کہ جیسے ہی ملک میں زیادتی کا کوئی کیس ہوتا ہے تو اچانک لاکھوں افراد اُس کی وڈیو تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ایسی وڈیوز بہت سوں کی ذہنی عیاشی کا سامان کرتی ہیں۔

پولیس کے اعلیٰ افسران نے بتایا کہ زیادتی کے واقعات کی وڈیوز کی فروخت کوئی نئی بات نہیں پہلے سی ڈی استعمال ہوتی تھی، پھر پین ڈرائیو یا یو ایس بی استعمال ہونے لگی اور اب معاملہ آن لائن ہے۔ ایسی وڈیوز بیچنے والے اینکرپٹیڈ ایپس استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایک بار کوئی وڈیو آن لائن ہو جائے تو پھر اُس کی شیئرنگ روکنے کا کوئی میکنزم حکومت کے پاس نہیں۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بھارتی معاشرے میں ثقافتوں اور روایات کا فرق بہت زیادہ ہے۔ عمومی اخلاقی سطح بھی خاصی پست ہے۔ لوگ زیادتی کے واقعات کو یوں لیتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہ ہو بہت سے چھوٹے بڑے شہروں میں لوگ جنسی آسودگی کے لیے بچیوں تک کو نہیں چھوڑتے۔ بہت سی بچیاں اور لڑکیاں جسم فروشی سے دھندے سے جوڑ دی گئی ہیں۔ دہلی، ممبئی، کولکتہ، چنئی، حیدر آباد، بنگلور اور دیگر بڑے شہروں میں جسم فروشی کے دھندے سے بچیوں اور لڑکیوں کا وابستہ ہونا عام بات ہے۔ اس دھندے کو ریاستی حکومتوں کی طرف سے تحفظ بھی حاصل ہے کیونکہ یہ سب کچھ لائسنس کے تحت ہوتا ہے۔

عام بھارتی باشندوں میں جنسی رجحانات کے حوالے سے درندگی کا گراف بلند ہوتا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ جسم فروشی سے وابستہ لڑکیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ موقع ملتے ہی کسی بھی لڑکی کو دبوچ لیتے ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دیہات کا حال بھی بہت بُرا ہے۔ بڑے شہروں میں تو تھوڑا بہت احتجاج ہو بھی جاتا ہے، چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ایسے واقعات تواتر سے رونما ہوتے رہتے ہیں اور متاثرہ بچیاں، لڑکیاں اور خواتین احتجاج بھی نہیں کر پاتیں۔ متعلقہ علاقوں کے با اثر افراد اُنہیں بزور خاموش کرادیتے ہیں۔

زیادتی کے واقعات کی وڈیوز اور تصویروں کی مقبولیت کے معاملے میں ملک کی تمام ریاستیں برابر ہیں۔ بعض ریاستوں میں رجحانات زیادہ بگڑے ہوئے یعنی گندے ہیں۔ پنجاب، ہریانہ، دہلی، اتر پردیش اور بہار وغیرہ میں زیادتی کے واقعات کی وڈیوز کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور اُن کی شیئرنگ بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھاڑ کھنڈ اور دیگر ریاستوں میں بھی یہ قبیح رجحان خاصا قوی ہے۔

معاملہ دوطرفہ ہے یعنی جو لوگ عورتوں پر گندی نظر رکھتے ہیں وہ زیادتی کی وڈیوز کو پسند کرتے ہیں اور جو زیادتی کی وڈیوز دیکھتے رہتے ہیں وہ عورتوں کے معاملے میں مزید درندگی کی طرف رواں رہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے