English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بوسنیا میں غلط استعمال پر 39 پاکستانیوں کے ورک پرمٹ منسوخ

سرائیوو:بوسنیا ہرزیگووینا کی حکومت نے اس بار پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے کہ بہت سے غیر ملکی بوسنیا ہرزیگووینا پہنچ کر ورک پرمٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر اس ملک کو ٹرانزٹ پوائنٹ بناکر کروشیا کے راستے یورپی یونین میں داخل ہوکر وہاں آباد ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

بوسنیا ہرزیگووینا کی حکومت نے ورک پرمٹ کے غلط استعمال اور اِس کے ذریعے کروشیا کے علاوہ یورپی یونین کے شینجن ایریا ممالک کا سفر کرنے پر 39 پاکستانیوں کے ورک پرمٹ منسوخ کردیے ہیں۔

ورک پرمٹ کے غلط استعمال کی بنیاد پر بنگلا دیش کے 14 باشندوں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔ یہ لوگ بھی کروشیا کے راستے یورپ جاکر وہاں آباد ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ بوسنین ورک پرمٹ کے تحت کسی بھی دوسرے ملک جاکر وہاں کام کرنے اور آباد ہونے کی سختی سے ممانعت ہے۔

بوسنیا کو ہنر مندوں، اساتذہ اور دیگر اہلِ علم و فن کی اشد ضرورت ہے۔ بوسنیا میں ملازمت کے پُرکشش مواقع موجود ہیں۔ ہنر مندوں کے لیے وہاں دو لاکھ پاکستانی روپے تک کمانے کی گنجائش موجود ہے۔ اچھی طرزِ فکر و عمل کی بنیاد پر بوسنیا میں طویل قیام کی گنجائش بھی موجود ہے۔

بوسنیا یورپ ہی کا ملک ہے اور اِس کا عمومی معیارِ زندگی بھی خاصا بلند ہے۔ ملک صاف ستھرا ہے۔ بنیادی سہولتیں اچھی طرح فراہم کی جاتی ہیں۔ لوگ عمومی سطح پر بہت پُرسکون زندگی بسر کرتے ہیں۔ آلودگی برائے نام ہے۔ آبادی کم ہے اس لیے معاشرے میں انتشار بھی نہیں۔ لوگ مجموعی طور پر خاصے پُرسکون رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ جرائم کی شرح بھی برائے نام ہے۔

بوسنیائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہاں آنے والوں کو کہیں اور جانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ملازمت اور کمائی کے اچھے مواقع آسانی سے دستیاب ہیں۔ افرادی قوت کی درآمد کے لیے بوسنیائی حکومت پاکستان، بنگلا دیش، نیپال اور بھارت کو ترجیح دیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے