ویانا:جرمنی کے بعد اُس کے پڑوسی ملک آسٹریا نے بھی افغان پناہ گزینوں سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ جرمنی سے 28 افغان باشندوں کو ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد اب ویانا نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ کرمنل ریکارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کو اُن کے وطن واپس بھیجا جائے۔
ویانا میں آسٹریائی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب صورتِ حال بدل چکی ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اب وہاں سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ افغان باشندے اپنے ملک واپس جائیں۔
آسٹریا کے وزیرِداخلہ گیرہارڈ کارنر کہتے ہیں کہ اب تک ہمارے لیے افغان باشندوں کو براہِ راست واپس بھیجنا اس لیے ممکن نہ تھا کہ ایسا کرنا یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوتا اور ہمارے خلاف کارروائی ہوسکتی تھی مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ جرمنی نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔ اُس نے کرمنل ریکارڈ کے حامل 28 افغان باشندوں کو براہِ راست پرواز کے ذریعے اُن کے ملک بھیجا ہے۔
آسٹریا کے چانلسر کارل نیہامر کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کی جانے والی ڈی پورٹیشن سے ملک کے لیے کوئی الجھن پیدا نہیں ہوگی۔ تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد ہی آسٹریا نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان اور شام کے پناہ گزینوں کو اُن کے ملک واپس بھیجا جائے۔
واضح رہے کہ جرمنی اور آسٹریا سمیت بیشتر یورپی ممالک اب تک قانونی و غیر قانونی پناہ گزینوں کو اُن کے وطن واپس بھیجنے کے لیے تیسرے ملک کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ بعض قانونی پابندیوں کے باعث افغانستان، شام اور دیگر ممالک کے پناہ گزینوں کو بعض شرائط کی تکمیل کے بغیر نکالنا اُن کے لیے ممکن نہ تھا۔ اب معاملات طے ہوچکے ہیں کیونکہ حالات بدل گئے ہیں۔ کل تک کسی تیسرے ملک کی وساطت سے ڈی پورٹیشن کی جاتی تھی، اب براہِ راست پروازوں کے ذریعے پناہ گزینوں کو اُن کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔

