ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرینی جنگ عالمی تنازع میں تبدیل ہوئی تو امریکا بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ امریکا میں روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا کہ امریکا خام خیالی میں ہے کہ وہ یوکرینی جنگ کے زریعے یورپ کو روس سے لڑا کر خود باہر بیٹھا رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی فوج کی جانب سے قتل عام، قیدیوں اور روسی شہریوں کے استیصال کو امریکا نظر انداز کررہا ہے۔ باتیں کی جارہی ہیں کہ طویل فاصلے سے مار کرنے والے امریکی میزائلوں سے یوکرینی فوج نے روس میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس پر بات نہیں کی جارہی ہے کہ یوکرینی فوج کرسک اور بلگورود میں شہریوں، اسپتالوں اور پلوں کو کس طرح نشانہ بنارہی ہے۔ روسی سفیر نے کہا کہ جدید اسلحہ، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور کرائے کے فوجی کچھ بھی کرلیں میدان جنگ کی صورتحال نہیں بدلے گی۔دوسری جانب ایران کی جانب سے ڈھائی برس کے دوران میں روس کو سیکڑوں ڈرون طیارے فراہم کیے جانے کے بعد ممکنہ طور پر تہران اپنے حلیف ماسکو کو بیلسٹک میزائل بھی فراہم کرے گا۔ یہ فراہمی جدید روسی سخوئی لڑاکا طیاروں کے عوض ہو سکتی ہے۔ بلومبرگ نیٹ ورک کے مطابق اس سے قبل تہران نے روسی ساخت کے سخوئی 35 لڑاکا طیاروں کے لیے ماسکو پر دباؤ ڈالا تھا۔ ایرانی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ روس سے ایم آئی ایچ 28، یاک 130لڑاکا ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ایس یو 35لڑاکا طیاروں کے حصول کے لیے معاہدے طے پا چکے ہیں۔
