English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاناما نے 130 بھارتی تارکین وطن کو امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت انڈیا واپس بھیج دیا

پاناما نے جمعے کو 130 بھارتی تارکین وطن کو بھارت واپس بھیج دیا ہے جو ڈارین کے خطرناک جنگل کے راستے غیر قانونی طورپر ملک میں داخل ہوئے تھے۔ پاناما نے یہ اقدام جولائی میں امریکہ کے ساتھ کئے جانے والے جلا وطنی کے ایک معاہدے کے تحت انجام دیا۔

یہ بر اعظم امریکہ سے باہر کسی معاہدے کے تحت ایسی پہلی اور مجموعی طور پر چوتھی ملک بدری ہے۔

پاناما وسطی اور جنوبی امریکہ کو ملانے والے خشکی کے ایک خطےپر واقع ملک ہے جو اپنی پاناما کینال کی وجہ سے مشہور ہے۔


دنیا کے تقریباً 12 ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا یہ قافلہ میکسیکو کےجنوبی قصبے شیلاد ہیدگلو سے امریکی سرحد کی طرف پیدل جا رہا ہے۔ کیونکہ حکومت تارکین وطن کو بسوں اور ریل سے سفر کا اجازت نامہ نہیں دیتی۔ وہ امریکی الیکشن سے پہلے امریکی سرحد عبور کرنا چاہتے ہیں۔ 21 جولائی 2024

دنیا کے تقریباً 12 ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا یہ قافلہ میکسیکو کےجنوبی قصبے شیلاد ہیدگلو سے امریکی سرحد کی طرف پیدل جا رہا ہے۔ کیونکہ حکومت تارکین وطن کو بسوں اور ریل سے سفر کا اجازت نامہ نہیں دیتی۔ وہ امریکی الیکشن سے پہلے امریکی سرحد عبور کرنا چاہتے ہیں۔ 21 جولائی 2024

کولمبیا اور پاناما کے درمیان واقع ڈارین گیپ نامی دشوار گزار جنگلاتی علاقہ تارکین وطن کے لیے جنوبی امریکہ سے وسطی امریکہ اور میکسیکو کے راستے سفر کر کے امریکہ داخل ہونے کی ایک اہم راہداری بن گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن نے وسطی امریکہ کے اس ملک کے ساتھ ساٹھ لاکھ ڈالر کا ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ اپنے ملک میں داخل ہونےوالے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرے گا تاکہ امریکہ کی جنوبی سرحد پر غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی لائی جاسکے ۔


 امریکہ کی سرحد کے قریب میکسیکو کے شہر تیجوانا میں مسلم تارکین وطن کا ایک شیلٹر ، فوٹو اے ایف پی ،17 مئی 2024

 امریکہ کی سرحد کے قریب میکسیکو کے شہر تیجوانا میں مسلم تارکین وطن کا ایک شیلٹر ، فوٹو اے ایف پی ،17 مئی 2024

ڈارین گیپ اپنے پر خطر راستوں اور جرائم پیشہ گینگز کے حملوں کی وجہ سے ایک انتہائی خطرناک علاقہ ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ سال پانچ لاکھ سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن نے اسے عبور کیا، جن میں سے بیشتر وینزویلا کے شہری تھے۔

پاناما کے ڈائریکٹر آف امیگریشن، راجرموجیکا نے ایک نیوز کانفرنس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے کی وجہ سے ایک چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے نئی دہلی واپس بھیج دیا گیا ہے۔

اسی نیوز کانفرنس میں سنٹرل امریکہ کے لیے امریکہ کی سیکیورٹی امور سے متعلق اتاشی مارلن پنیرو نے کہا کہ واشنگٹن اس تمام مدد پرپاناما کی حکومت کا بہت شکر گزار ہے اور یہ کہ غیر قانونی مائیگریشن جاری نہیں رہ سکتی۔

فوٹو اے ایف پی

فوٹو اے ایف پی

امریکہ کے انتخابی سال کے دوران واشنگٹن کی جانب سے پاناما اور میکسیکو جیسے ٹرانزٹ ملکوں پر مائیگریشن کے ایک انتہائی اہم مسئلے سے نمٹنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

امیگریشن طویل عرصے سے صدارتی امیدوار سابق صدر ٹرمپ کے نمایاں موضوعات میں سے ایک موضوع رہا ہے۔

وہ میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد کے ذریعے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی غیر معمولی تعداد پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ امیگریشن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، جو نومبر کے صدارتی انتخابات سے قبل بہت سے امریکیوں کے لیے ایک بہت بڑا متنازعہ مسئلہ ہے۔

صدر بائیڈن کی جانب سے سرحد پر پناہ کی درخواستوں سے متعلق ایک ضابطے کو معطل کرنے کے بعد غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے واقعات کی تعداد یک دم کم ہو گئی ہے۔




جولائی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے تارکین وطن کی ملک بدری کی شق موجود ہے لیکن وہ خطرناک اور دشوار گزار ڈارین گیپ کے علاقے سے پاناما داخل ہونےوالے کسی بھی شخص کی ڈیپورٹیشن کا جائزہ لے سکتا ہے۔

اس معاہدے پر اسی دن دستخط ہوئے تھے جب پاناما کے صدر ہوزے راؤل مولینو نے اپنا منصب سنبھالا تھا جنہوں نے اپنی صدارتی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈارین گیپ کی گزر گاہوں پر پکڑ دھکڑ کریں گے ۔

جمعے کی ملک بدری کے ساتھ ،پاناما دوہفتوں میں 219 تارکین وطن کو ملکسے نکال چکا ہے ۔

اس رپورٹ کا مواد اے ایف پی سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے