English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسرائیلی بمباری میں اہل خانہ سمیت شہید

القمر

غزہ / تل ابیب /بیروت / دمشق /تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری میں اہل خانہ سمیت غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہید ہوگئے۔ غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی کہ غزہ سول ڈیفنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عبدالحیی مرسی جبالیا میں اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئے‘ اسرائیلی فوج کی جانب سے سول ڈیفنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے گھر کو ٹارگیٹ کرکے نشانہ بنایا گیا تھا، حملے میں ان کے اہل خانہ بھی شہید ہوگئے۔ ترجمان غزہ سول ڈیفنس کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ سول ڈیفنس کے 83 اہلکار شہید جبکہ 200 سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران صیہونی افواج کے وحشیانہ حملوں میں مزید 33 فلسطینی شہید ہوگئے اس کے علاوہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے سے 3 ایمرجنسی اہلکار بھی شہید ہوئے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے وسطی اور جنوبی غزہ میں گھروں اور پناہ گزین کیمپوں کونشانہ بنایا، غزہ سٹی اور جبالیہ میں پناہ گزینوں کے اسکولوں پر بمباری میں 12 افراد شہید ہوئے۔غزہ کے محصور علاقے میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی شہید ہوئے، بوریج پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فضائی حملے میں 4 فلسطینی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب غزہ میں اقوام متحدہ کی انسداد پولیو مہم جاری ہے، ایک ہفتے میں غزہ کے 69 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلا دیے گئے۔ 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے اور مشرق وسطیٰ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا ہے مگر غزہ کے 6 لاکھ سے زاید طلبہ تعلیم سے محروم ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ماہ ستمبر میں ہوتا ہے جو اگلے سال جون تک جاری رہتا ہے مگر طالب علم پچھلے ایک سال سے اسکول اور دیگر تعلیمی اداروں سے دور زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کے لوگ زیادہ تر اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جب کہ 80 فیصد سے زاید اسکول یا تو مکمل تباہ ہوگئے یا انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے جب کہ غزہ میں قائم آخری یونیورسٹی کو بھی اسرائیلی فوج نے اس سال جنوری میں تباہ کردیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے 6 لاکھ 30 ہزار طلبہ اکتوبر 2023 سے اسکول نہیں جاسکے اور 39 ہزار طالب علم اپنے ہائی اسکول کا امتحان نہیں دے سکے جب کہ اسرائیلی حملوں میں 300 سے زاید اسکول تباہ ہوگئے۔ اب تک 25 ہزار بچے زخمی یا شہید ہوگئے ہیں جن میں سے 10 ہزار طالب علم تھے۔ شام میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں 16 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں جسے دمشق میں ایرانی سفارت خانے کے احاطے پر اسرائیلی حملے کے بعد سب سے بڑا جان لیوا حملہ قرا دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں شامی خبر ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسرائیل نے رات11 بج کر 20 منٹ پر شام کے وسطی علاقے کے متعدد فوجی مقامات پر حملہ کیا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مقامات پر کس چیز کو نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شامی فضائی فورسز نے کچھ میزائلوں کو گرا دیا، تاہم مقامی امدادی حکام کے مطابق 36 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے6 کی حالت تشویشناک ہے۔ دو ریجنل انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق شام کے صوبے حاما کے علاقے میسف میں موجود فوجی ریسرچ سینٹر کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا جو کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ذرائع کے مطابق اس مرکز میں ایرانی فوجی ماہرین کی ایک ٹیم بھی موجود تھی جو ہتھیار تیار کرتی تھی۔ شامی خبر ایجنسی کے مطابق شامی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’کھلی جارحیت‘‘ قرار دیا ہے۔ جاری بیان کے مطابق اس حملے میں 16 افراد کے جاں بحق اور 36 افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ ’’کچھ رہائشی علاقوں کو نقصان‘‘ بھی پہنچا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نصر کنانی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام میں ’مجرمانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران حملے سے متعلق سوال پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم ایرانی مرکز یا ایران کے زیرِ تحفظ کسی مرکز کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے صیہونی حکومت (اسرائیل) سے وابستہ میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔شامی سرکاری میڈیا کے مطابق فضائی حملوں سے2 جگہ بڑے پیمانے پر آگ لگی۔ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو انتقام کا کڑواذائقہ چکھنا ہوگا‘ اس بار اسرائیل سے بالکل مختلف اور غیر روایتی طریقے سے انتقام لیں گے اور وہ جان لے گا کہ شیر کی دم سے نہیں کھیلتے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے باور کرایا ہے کہ ہمارے رد عمل کا بھیانک خواب اسرائیل کو دن رات دہلا رہا ہے‘ اسرائیل کے حکام اور رہنما اپنا ذہنی توازن کھو چکے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ہر لمحہ موت کے منتظر ہیں۔ کمانڈر انچیف نے مزید کہا کہ اسرائیل یہ نہ سمجھے کہ ضرب لگا کر فرار ہو جائے گا۔ وہ جان لے کہ ان کو بھرپور جواب دیا جائے گا جس سے وہ کسی صورت بچ نہیں سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے