بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کام نہیں کر رہی تھی اور لوگوں کو جمہوری اقدار کے حوالے سے اپ ڈیٹ کی ضرورت تھی اس لیے بھارت جوڑو نیائے یاترا کے زیرِعنوان ملک گیر تحریک چلانا پڑی۔ یہ تحریک بہت حد تک کامیاب رہی ہے۔ ہم نے لوگوں کو یاد دلایا ہے کہ بھارتی معاشرہ ہمیشہ جمہوریت پسند رہا ہے۔ یہاں انتہا پسندی کی گنجائش نہیں۔
وشنگٹن ڈی سی میں پریس بریفنگ کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ بھارتی سیاست کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو قبول کیا کرتے تھے، برداشت کرنے کے عادی تھے مگر اب اختلافِ رائے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی گئی ہے۔ انتہا پسندی عمومی رویوں میں بھی در آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں پورا معاشرہ پھٹ پڑنے کو تیار رہتا ہے۔
بھارت کی سابق حکمراں جماعت کانگریس کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ بھارت کو ایسی قیادت درکار ہے جو رواداری اور انسان دوستی کو اہمیت دے، معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے تیار ہو اور اس سلسلے میں مفادات کو آڑے نہ آنے دے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے اور اقلیتوں کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ بھارتی معاشرہ کسی زمانے میں اس بات کے لیے پہچانا جاتا تھا کہ سب کو قبول کیا جاتا ہے، لوگ مل کر رہتے ہیں اور مذہبی یا نسلی تنوع کے باوجود ایک دوسرے کو قبول کرنے کی ذہنیت پروان چڑھتی رہی ہے۔ یہ سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔
راہل گاندھی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت جوڑو یاترا اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہی۔ ہمارے پاس لوگوں کے پاس براہِ راست جانے کے سوا چارہ نہ تھا۔ بھارت جوڑو یاترا نے عوام سے حقیقی رابطہ یقینی بنایا اور ہم نے محسوس کیا کہ عوام بھی اس بات کی ضرورت محسوس کر رہے تھے کہ سیاسی جماعتیں اُن سے رابطہ کریں، اُن کے مسائل پوچھیں اور اُن کے حل کی راہ ہموار کریں۔

