اور وہ گھڑی بھی آ پہنچی جس کا لوگوں کو دو ماہ سے انتظار تھا۔ امریکا میں صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ دونوں امیدواروں کی اہلیت کا حقیقی امتحان ہوا کرتا ہے۔ دو ماہ قبل جب صدر جو بائیڈن اپنے حریف سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابل کھڑے ہوئے تھے تو انتہائی کمزوری دکھائی تھی۔ بحث کے دوران اُنہوں نے کئی غلطیاں کیں، بھلکڑ پن کا مظاہرہ بھی کیا اور بعض معاملات میں بالکل خاموش بھی ہونا پڑا۔
دو ماہ پہلے کے مباحثے میں ٹرمپ کی فتح نے صدر بائیڈن کی انتخابی اکھاڑے سے چھٹی کردی تھی۔ اُن کے پیچھے ہٹنے پر نائب صدر کملا ہیرس کو ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار بننے کا موقع ملا۔ اُن کی پوزیشن ڈیڑھ ماہ کے دوران بہت اچھی رہی ہے۔ انہیں بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے مباحثے کا انتظار تھا۔
گزشتہ شب ہونے والے مباحثے میں کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسرے کی سیاست اور شخصیت دونوں ہی کو نشانے پر لینے کی بھرپور کوشش کی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کملا ہیرس اسرائیل کی مخالف ہیں اور چاہتی ہیں کہ حماس اور دیگر عسکریت پسندوں کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں۔ اس کے جواب میں کملا ہیرس نے کہا کہ سوال اسرائیل کا نہیں، جہاں بھی کسی کے خلاف ناجائز طور پر کچھ کیا جارہا ہوگا وہاں امریکا ایسا ہی موقف اختیار کرے گا۔ ساتھ ہی ساتھ کملا ہیرس نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں مگر دنیا بھر میں ڈکٹیٹرز کو پسند کرتے ہیں۔ جو لیڈر تمام معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر اپنی مرضی سے فیصلے کرتے ہیں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ قرار پاتے ہیں۔ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے کُھلے طرف دار رہے ہیں۔
کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو پر بھی اُن کے اپنے عوام یہ الزام لگارہے ہیں کہ وہ دوسروں کی رائے کا احترام کیے بغیر صرف اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپ رہے ہیں، اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔
اسقاطِ حمل کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ واضح جواب نہ دے سکے۔ کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ ریاست کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ کسی بھی انسان کو یہ ہدایت دے کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ کسی بھی انسان کو اپنے وجود پر پورا اختیار ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کا انتہائی بنیادی حق ہے۔
کملا ہیرس نے دعوٰی کیا کہ آج ڈونلڈ ٹرمپ سب کے سامنے اسقاطِ حمل کی حمایت کر رہے ہیں لیکن صدر منتخب ہونے پر وہ اسقاطِ حمل پر ملک گیر پابندی عائد کردیں گے۔ ٹرمپ نے اُن کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے، میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔ کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ اسقاطِ حمل کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی میں زنا بالجبر اور مقدس رشتوں کی پامالی کے کیس میں کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے جو غیر اخلاقی امر ہے۔
ایک موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ملک میں ایسی ریاستیں بھی ہیں جہاں ان چاہے بچوں کو پیدائش کے بعد قتل کردیا جاتا ہے۔ اس پر ماڈریٹر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ملک میں ایسی کوئی ریاست نہیں جہاں نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنا قانونی عمل ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 ہفتوں کے حمل کے اسقاط پر پابندی کے اپنے موقف کی وضاحت کے دوران کہا کہ اس معاملے میں ڈیموکریٹس کے تصورات خواہ مخواہ کے انقلابی ہیں اور نائب صدر کے ڈیموکریٹ امیدوار ٹم والز بھی بچوں کو پیدائش کے بعد قتل کرنے کے حق میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوٰی کیا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی نہ چھڑی ہوتی اور غزہ کا وہ حال نہ ہوا ہوتا جو ہوا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹ امیدوار کو صدر کے منصب پر فائز ہونے کا موقع ملا تو اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا۔ انہوں نے کملا ہیرس پر عربوں سے نفرت کا الزام بھی عائد کیا۔ اس پر کملا ہیرس نے کہا کہ یہ بات تو ریکارڈ پر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عرب ملکوں کے باشندوں سے کُھل کر نفرت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اُنہوں نے چند مسلم ممالک سے لوگوں کی آمد پر پابندی بھی عائد کی تھی جو سراسر جانب داری والا اور امتیازی نوعیت کا معاملہ تھا۔
مباحثے کے دوران سابق امریکی صدر میں وہ بات دکھائی نہ دی تو صدر بائیڈن سے مباحثے کے دوران دکھائی دی تھی۔ وہ کملا ہیرس کو ناک آؤٹ کرنے میں ناکام رہے۔ کملا ہیرس نے خارجہ پالیسی سمیت متعدد معاملات پر اپنے خیالات خاصے پُراعتماد انداز سے پیش کیے۔ امریکا بھر میں کروڑوں افراد نے یہ مباحثہ دیکھا اور کملا ہیرس اُنہیں مطمئن کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہیں۔
غیر قانونی تارکینِ وطن کے اِشو پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ جم کر کوئی بات نہ کرسکے اور آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکا کو غیر قانونی تارکینِ وطن سے خطرات لاحق ہیں مگر ڈیموکریٹس یہ بات سمجھتے ہی نہیں اور امیگریشن پر پابندی لگانے کا نہیں سوچ رہے۔ اِس کے جواب میں کملا ہیرس نے کہا کہ امریکا کی ترقی میں تارکینِ وطن کی خدمات اہم رہی ہیں۔ اُنہوں نے اِس ملک کو بہت کچھ دیا ہے۔ اگر امیگریشن پالیسی تبدیل کرنی ہے تو بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ امریکا انتہائی باصلاحیت اور پُرجوش افراد کی ضرورت رہتی ہے۔ دنیا بھر کے باصلاحیت نوجوان امریکا کو اپنے خوابوں کی سرزمین سمجھتے ہیں۔ ہر خطے سے باصلاحیت نوجوان امریکا آخر اپنی صلاحیت و سکت سے اِس کی ترقی میں قابلِ ذکر رکدار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے آنکھ بند کرکے کوئی پالیسی نافذ نہیں کی جاسکتی۔
کملا ہیرس نے کہا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے وسطی امریکا کی کئی ریاستوں سے بات کرنا پڑے گی۔ جن راستوں سے لوگ اپنی زندگی اور دولت خطرے میں ڈال کر امریکا کی طرف بڑھتے ہیں اُن راستوں ہی کو بند کرنا ہوگا اور دنیا بھر میں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ امریکا آنا ہے تو قانونی طریقے سے آئیے جو آسان بھی ہے اور سستا بھی۔
کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ نے مہنگائی اور بے روزگاری سے متعلق بھی اپنے پروگرام پیش کیے۔ اُن کا دعوٰی تھا کہ ملک کو مشکل حالات کا سامنا اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کہ دنیا بھر میں مسائل پائے جاتے ہیں۔ یورپ نے راہیں الگ کرلی ہیں۔ چین سے تجارتی جنگ کسی نہ کسی حیثیت میں جاری ہے۔ امریکا اب بیرونِ ملک عسکری مہمات میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔ عالمی معیشت کی مندی نے بھی معاملات بگاڑے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکا کی مجموعی صورتِ حال پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
کملا ہیرس نے کہا کہ ڈیموکریٹس کے پاس مہنگائی، بے روزگاری اور ہاؤسنگ جیسے مسائل کے حل کے لیے جامع پروگرام ہیں۔ موقع ملتے ہی اس حوالے سے کام شروع ہوگا۔ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر کملا ہیرس کے پاس کوئی جامع پروگرام ہوتا تو وہ نائب صدر کی حیثیت سے اُس پر عمل کراچکی ہوتیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ چار سالہ ڈیموکریٹ دور میں امریکا بھر میں بے روزگاری بھی بڑھی ہے اور زندگی بسر کرنے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

