حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ایچ ڈی اے مزدور یونین (سی بی اے) حیدرآباد اور مہران ورکر یونین (سابقہ سی بی اے) کے رہنمائوں نے ایچ ڈی اے اور واسا ملازمین کی 8ماہ کی تنخواہ ، بیوائوں ریٹائرڈ ملازمین کی 12 ماہ پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف تلسی داس پمپنگ اسٹیشن پر مشترکہ پر امن احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا کے مقام پر صبح سویرے پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پویس کی نفری کی موجودگی میں دونوں یونین کی جانب سے تلسی داس پمپنگ اسٹیشن پر احتجاج ہوا اور بعد ازاں ملازمین ریلی کی شکل میں پریس کلب پہنچ کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر ایچ ڈی اے مزدور یونین (سی بی اے) حیدرآباد کے جنرل سیکرٹری انصاف علی لاشاری اور مہران ورکر یونین (سابقہ سی بی اے) کے جنرل سیکرٹری اسلم عباسی سمیت یونینز کے دیگر عہدیداران نے پر امن مظاہرین اور شرکاء دھرنا سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ادارے کے مظلوم محنت کش ملازمین ماہ جنوری سے لے کر ماہِ اگست تک اور پنشنرز اپنی 12 ماہ کی پنشن سے محروم ہے جو موجودہ ایچ ڈی اے اور (واسا) انتظامیہ کی نا اہلی اور ان کی موجودہ کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور ہمیں تنخواہ پنشن مانگنے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی لیکن ہمارے حوصلے بلند ہیں، ہم اپنی تنخواہ اور پنشن کا آئینی اور قانونی حق مانگنے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے جبکہ اس وقت پوری اُمت مسلمہ سرکار دوعالم ﷺکے میلاد کی خوشی میں اپنے گھروں محلوں گلیوں کو سجانے میں مصروف ہے اور اپنے گھروں میں خصوصی میلاد کی محافل منعقد کر رہے ہیں جبکہ ہمارے محنت کش مزدور تنخواہ اور پینشن نہ ہونے کے سبب جشن میلاد النبی ﷺ کی خوشیاں منانے سے محروم رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں اور اہل خانہ کا پیٹ بھرنے کے لیے دعوت اسلامی اور سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور دیگر فلاحی اداروں سے راشن لے کر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کر رہے ہیں اور ہم بحیثیت مسلمان ماہ ربیع الاول کے احترام میںکوئی انتہائی سخت اقدام اُٹھانے اور ضلع بھر کا سیوریج سسٹم اور فلٹر پلانٹ بند کرنے سے گریز کر رہے ہیں، اگر تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی نہ گئی تو ہم سسٹم بند کرنے پر بھی مجبور ہوں گے جس کی ذمہ داری بھی ایم ڈی واسا پر عائد ہو گی۔ رہنمائوںنے کہا کہ ہمارے محنت کش مزدور غربت بھوک افلاس کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پر امن احتجاج میں شریک ہر مزدور ایم ڈی واسا سے پوچھنا چاہتا ہے کہ مالی سال میں ایک ارب 84 کروڑ روپے کی ریکوری کہاں گئی ؟ حالیہ بارش سے قبل ادارے کے اکائونٹ میں 30 کروڑ روپے موجود تھے جن سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ممکن تھی وہ رقم کہاں گئی؟ ماہانہ کروڑوں روپے کی ہونے والی ریکوری کہاں جا رہی ہے؟
