حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ، سینئر نائب صدر تشکیل احمد صدیقی ، جنرل سیکرٹری محمد عمر شر ،حیدرآباد زون کے صدر عبد القیوم بھٹی، سینئر نائب صدر مبین راجپوت، جنرل سیکرٹری اعجاز حسین، انفارمیشن سیکرٹری محمد احسن شیخ اور دیگر ایچ ڈی اے واسا ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت سندھ کی محنت کش دشمنی کا عقاس قرار دیا ہے۔ رہنمائوںنے کہا کہ ایچ ڈی اے واسا کے ملازمین کی طویل عرصے کی تنخواہیں اور واجبات حکومت کے ذمہ ہے اور ان کے حصول کے لیے ملازمین گزشتہ ایک عرصے سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں جبکہ ایچ ڈی اے کی ظالم انتظامیہ کسی قسم کی توجہ دینے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے، ایچ ڈی اے واسا کے ملازمین دن رات عوام کو فراہمی آب اور نکاسی آب کے کام میں 24 گھنٹے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اور ایچ ڈی اے کی انتظامیہ ان سے بھر پور مشقت کروانے کے لیے احکامات صادر کر رہی ہے لیکن انتظامیہ مکمل طور پر محنت کشوں کی بنیادی تنخواہوں کی ادائیگی میں ناکام ثابت ہوئی ہے، واسا کی بلوں کی ادائیگی میں بھی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی سب پر عیاں ہے، یہی وجہ ہے کہ محنت کشوں کی نمائندہ اور حقیقی یونین ایچ ڈی اے ایمپلائز یونین نے آج ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور غریب محنت کشوں کے گھروں میں بھوک و افلاس کے اور فاقہ کشی نوبت پہنچنے پر پریس کلب پر احتجاج کا اعلان کیا، نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ اس کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ اس موقع پر شکیل احمد شیخ نے کہا کہ ایچ ڈی اے کی نااہل اور ظالم انتظامیہ ہوش کے ناخن لے اور فوری حیدرآباد شہر میں نقص امن اور ربیع الاول کے با برکت مہینے میں محنت کشوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فوری انتظامات کرے با صورت دیگر نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ بھر میں اور پورے پاکستان میں ایچ ڈی اے کی انتظامیہ کے خلاف سخت تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔ دوسری جانب رہنمائوں نے کہا کہ سانحہ 11 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا بد ترین سانحہ ہے جس میں مفاد پرست اور خود غرض عناصر نے 259افراد کو زندہ جلا کر ان کے لواحقین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا تھا۔ مرحوم محنت کشوں کی بارہوویں برسی کے موقع پر رہنمائوں نے نے کہا کہ علی انٹر پرائزز کے غریب محنت کشوں کا کیا قصور تھا کہ ان کے ساتھ المناک سانحہ پیش آیا؟ پاکستان کی تاریخ میں یہ بہت بڑا سانحہ تھا جسے حکومت اور بالخصوص حکومت سندھ نے پس پشت ڈال دیا جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے اس وقت کے وزیر محنت جو آج پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے وزیر ہیں ان کی جانب سے ہر سال حکومتی سطح پر ان کی یاد میں پروگرام منعقد کیا جائے گا لیکن بد قسمتی سے ایک مرتبہ پروگرام منعقد کرنے کے بعد وہ بھی ختم کردیا گیا۔ شکیل احمد شیخ نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹائون کے لواحقین کافی عرصہ تک اپنے بقایاجات اور پنشن کی ادائیگی کے حصول کے لیے دھکے کھاتے رہے لیکن بے رحم سند ھ حکومت نے ان محنت کشوں کی قربانی کو بھی فراموش کر دیا، موجودہ صورتحال بھی انتہائی ناگفتہ بے ہے ہر آئے دن فیکٹریوں میں جلنے اور بوائلر پھٹنے اور ناگہانی آفت پر شدید نقصانات ہو رہے ہیں لیکن محکمہ لیبر اور وزارت محنت اور اس کے ذیلی ادارے ان حادثات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کروانے کے بجائے صنعت کاروں سے مالی معاملات چلانے میں آزاد ہیں، یہی وجہ ہے کہ کراچی اور پورے سندھ کے صنعتی اداروں میں مسلسل حادثات ہو رہے ہیں لیکن محنت کشوں کو ان حادثات سے بچانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا جا رہا جس سے محنت کشوں کی جان کو بھی خطرات لاحق ہیں، فوری طور پر ہمیں علی انٹر پرائزز کے سانحہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔
