ٹرمپ نے کملا ہیرس سے ایک اور مباحثہ خارج از امکان قرار دے دیا
امریکا کے سابق صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس سے ایک اور صدارتی مباحثہ نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ کملا ہیرس نے ایک اور صدارتی مباحثے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی ووٹرز کو مزید بہت کچھ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جس امیدوار کو صدر کے منصب پر دیکھنا چاہتے ہیں اُس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹریو میں کہا کہ کملا ہیرس دو دن قبل ہونے والے پہلے مباحثے میں شکست سے دوچار ہوئی ہیں اس لیے اب اپنے نقصان کا ازالہ کرنے کی خاطر ایک اور موقع چاہتی ہیں مگر میں اُنہیں یہ موقع نہیں دوں گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کے خلاف صدارتی مباحثہ بھی میرے حق میں گیا تھا اور اس بار بھی میری ہی پوزیشن بہتر رہی ہے۔ مباحثے کے بجائے اب میری پوری توجہ صرف اپنی انتخابی مہم پر مرکوز رہے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں پر واضح کردوں کہ اگر مجھے دوبارہ صدر منتخب کیا گیا تو امریکا میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ لوگوں کو مجھ سے جو توقعات ہیں میں اُنہیں بارآور کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔
ایک سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کی مجموعی صورتِ حال ایسی نہیں کہ قیادت کے معاملے میں کوئی ایسا ویسا تجربہ کیا جائے۔ ملک کو مضبوط اور آزمودہ قیادت درکار ہے۔ میرے پاس پروگرام ہے، پالیسیاں ہیں اور واضح اہداف ہیں۔ لوگ مجھ دیکھ چکے ہیں اور مجھے مسترد کرنے کا نتیجہ بھی اُنہوں نے دیکھ لیا ہے۔
یاد رہے کہ دو دن قبل ہونے والے صدارتی مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی توقع سے بہت کم رہی تھی۔ انہوں نے صدر جو بائیڈن کے مقابل مباحثے میں بہت چڑھ چڑھ کر اظہارِ خیال کیا تھا اور خوب بڑھکیں ماری تھیں مگر بیس سال چھوٹی امیدوار کے مقابل ٹرمپ کا جذبہ سرد پڑگیا۔ اس بار بھی انہوں نے بعض معاملات میں غلط بیانی کی اور بلند بانگ دعوے کیے۔

