English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لبنان میں پیجرز دھماکوں کے اگلے ہی دن واکی ٹاکی دھماکے ،مزید 14شہید ،تعداد27 ہوگئی ،3 ہزار سے زائد زخمی

القمر

بیروت،واشنگٹن(خبر ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) لبنان میں پیجر زدھماکوں کے اگلے ہی دن واکی ٹاکی دھماکے،مزید14شہید، تعداد 27 ہو گئی (3 ہزار سے زاید زخمی)تفصیلات کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں پیجر دھماکوں کے اگلے ہی روز حزب اللہ کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے جہاں حزب اللہ کے شہید ارکان کے جنازے میں شریک افراد کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کے واکی ٹاکیز میں دھماکے ہوئے جس سے کم از کم 14 افراد شہید اور 450 سے زائد زخمی ہو گئے۔خبر رساں ایجنسیوں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق حزب اللہ کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا کہ بیروت کے جنوب میں واقع نواحی علاقوں میں واکی ٹاکی دھماکے ہوئے اور ان میں سے دو دھماکے دو مختلف گاڑیوں میں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھنے جانے والے بیروت کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بدھ کے روز بھی پیجر اور ڈیوائسزکے دھماکے ہوئے۔لبنان کی وزارت صحت نے دھماکوں میں 14 افراد کی شہادت اور 450 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔رائٹرز کے مطابق سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ کم از کم ایک دھماکا گزشتہ روز پیجر دھماکوں میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ کے دوران ہوا۔سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق سوہمور کے علاقے میں ڈیوائسز کے پھٹنے سے تین افراد شہید ہو گئے جبکہ بلبیک کے اسپتال میں موجود ذرائع نے بتایا کہ اب تک واکی ٹاکی دھماکے میں زخمی کم از کم 15 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ واکی ٹاکی بھی پانچ ماہ قبل اسی وقت خریدے گئے تھے جب پیجر کی خریداری کی گئی تھی۔دوسری جانب حزب اللہ نے پیجر دھماکوں کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیلی فوج کی توپوں کے ٹھکانوں کو میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اس حوالے سے اب تک اسرائیل کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لبنان میں چھوٹی مواصلاتی ڈیوائسز پیجرز پھٹنے سے کم از کم 12 افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ ایرانی سفیر، حزب اللہ کے متعدد اراکین سمیت اڑھائی ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔لبنان کے وزیر صحت فراس ابیاد نے نیوز کانفرنس کے دوران تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پورے ملک میں پیجرز پھٹنے کے واقعات رونما ہوئے جس میں 2 ہزار 750 زخمی بھی ہوئے۔حزب اللہ نے پیجر دھماکوں کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سائبر حملے کرنے پر صیہونی ریاست کو سزا دی جائے گی جہاں رپورٹس کے مطابق جدید ماڈل کے پیجرز حالیہ مہینوں میں ہی خریدے گئے تھے۔علاوہ ازیںلبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی پیجر دھماکے کی زد میں آکر ایک آنکھ سے محروم ہوگئے جبکہ ان کی دوسری آنکھ میں شدید چوٹیں آئی ہیں۔امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حملہ کی معلومات رکھنے والے پاسداران انقلاب نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مجتبیٰ امانی کی چوٹیں ایران کی طرف سے بتائی گئی ابتدائی رپورٹوں سے زیادہ سنگین ہیں اور انہیں علاج کے لیے تہران منتقل کیا جائیگا۔پاسداران انقلاب کی مرکزی نیوز ویب سائٹ مشرق کے ایڈیٹر ان چیف حسین سلیمانی نے مائکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایرانی سفیر کو آئی چوٹوں کی تصدیق کرتے ہوئے پیغام میں لکھا کہ ’ بدقسمتی سے دھماکے میں مجتبیٰ امانی کی کو لگنے والی چوٹیں انتہائی شدید ہیں۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں پیجر لے جانے والے سفیر کے دو حفاظتی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔پاسداران انقلاب کے ایک عہدیدات نے بتایا ہے کہ پیجرز بشمول پہلے تقریباً 10 سیکنڈ تک بیپ کرتے رہے، جس سے کچھ متاثرین نے آلات کو اپنی آنکھوں اور چہروں کے قریب پکڑ کر پیغام کی جانچ پڑتال کرنے کی کوشش کی تھی۔پاسداران انقلاب کے دو ارکان کے مطابق پیجرز صرف حزب اللہ کے ارکان استعمال کرتے تھے اور عام شہریوں کے درمیان ان کا زیادہ استعمال نہیں تھا۔دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائیڈر نے ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ لبنان میں پیجر ڈیوائسز سے ہونے والے دھماکوں سے امریکاکا کوئی تعلق نہیں ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق اس سارے معاملے میں امریکا کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے لبنان میں ہونے والے پیجر دھماکوں میں امریکا کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اس بارے میں پتا تھا اور نہ ہی اس میں ملوث ہے۔مصری ہم منصب بدر عبدالعطا کے ساتھ قاہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ امریکا کو ان واقعات کا علم تھا اور نہ ہی وہ اس میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ابھی بھی اس واقعے کے حوالے سے شواہد اور ثبوت اکٹھے کررہے ہیں۔دریں اثنائامریکی عہدیداران کے مطابق اسرائیل نے لبنان اور شام میں حزب اللہ کے رہنماؤں کے زیر استعمال پیجر ڈیوائسز کو تنظیم کی جانب سے خفیہ آپریشن کی معلومات تک رسائی کے خطرے کی وجہ سے اڑایا۔امریکی ادارے ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق پیجر دھماکے اس وقت ہوئے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی جبکہ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ مکمل جنگ میں بدل سکتی ہے۔حزب اللہ کی طرف سے بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پیجر حملے کے بدلے کے علاوہ سرحد پر اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھے گا۔آپریشن کے بارے میں علم رکھنے والے ایک سابق اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز نے حزب اللہ کے اہلکاروں کی صفوں میں نصب کیے گئے پیجرز کو خفیہ طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی تاکہ حزب اللہ کو مفلوج کیا جاسکے۔قبل ازیںلبنان کے سینئر سیکورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پیجرز میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا جس کے باعث لبنان میں 9 افراد شہید جب کہ ایرانی سفیر اور حزب اللہ کے متعدد اراکین سمیت ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق لبنان کے ایک سینئر سیکورٹی ذرائع اور ایک اور ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے منگل کے دھماکے سے کئی ماہ قبل لبنانی گروپ حزب اللہ کے ذریعے درآمد کیے گئے 5 ہزار پیجرز میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔لبنانی سیکورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پیجرز تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو سے منگوائے تھے، لیکن کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈیوائسز ہم نے تیار نہیں کیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ ڈیوائسز بی اے سی نامی کمپنی نے بنائے ہیں جس کے پاس ہمارے برانڈ کو استعمال کرنے کا لائسنس ہے لیکن کمپنی نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ذرائع نے بتایا کہ 3 ہزار پیجرز اس وقت پھٹے جب اس میں ایک کوڈڈ میسج بھیجا گیا جس کے ساتھ ہی دھماکہ خیز مواد کے بورڈ کو آن کیا گیا۔ایک اور سیکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ پیجرز میں تین گرام تک دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود حزب اللہ اس سے بے خبر تھی اور اس کی شناخت نہیں کرسکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے