لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ تمام اداروں کو آئین کی حدود کا پابند ہونا ہوگا،ست، جمہوریت، پارلیمنٹ، عدلیہ اور آئینی ترامیم کے بحران مفادپرستی اور غیرآئینی اسلوبِ حکمرانی کا شاخسانہ ہے۔لیاقت بلوچ نے رابطہ عوام اور ممبر سازی مہم میں بیدیاں روڈ ہیر، گوپال نگر، باغبانپورہ، شالیمار، کلفٹن کالونی، ماڈل ٹائون، لِنک روڈ، واپڈا ٹائون، باگڑیاں چوک، فیروزپور روڈ اور اِچھرہ میں کیمپوں کا دورہ کیا اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست سیاسی جماعتوں کے غیرمنظم ہونے کی وجہ سے کمزور اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے ترانوالہ بنی ہوئی ہے۔ سیاست نظریہ، اصول اور کردار کو بے دخل کرکے قیامِ پاکستان کے مقاصد کو بھلادیا گیا ، ملک قدرتی وسائل، ذرخیز زمین اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ہے لیکن کرپشن، بدانتظامی اور مفادپرستی نے پورے ملک کو مفلوج اور بیرونی استعماری اداروں کے سامنے ڈھیر کردیا ہے، عوام جماعتِ اسلامی کا ساتھ دیں، ممبر بنیں اور قومی سیاست کو نظریہ اور کردار کی بنیاد پر طاقت ور بنائیں۔ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، الطاف حسین اور بانی پی ٹی آئی کی پاپولر سیاست اور پاپولریٹی نے ملک کو استحکام کی بجائے زہریلی پولرائزیشن میں مبتلا کردیا۔ صرف پاپولریٹی ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتی، پوری قوم کو منظم اور نوجوانوں کو مستقبل کی امید دِلانے سے بحران ختم ہونگے، سیاست، جمہوریت، پارلیمنٹ، عدلیہ اور آئینی ترامیم کے بحران مفادپرستی اور غیرآئینی اسلوبِ حکمرانی کا شاخسانہ ہے، تمام اداروں کو آئین کی حدود کا پابند ہونا ہوگا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت جلسوں کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑے کرکے غیرجمہوری اور آمرانہ اقدام کررہی ہے، پرامن سیاسی جلسہ پارٹیوں کا سیاسی آئینی جمہوری حق ہے، آئینی ترامیم پارلیمنٹ کا آئینی حق لیکن ہر وہ قانون سازی اور آئینی ترامیم کا عمل جس میں مفادات، بدنیتی پر مبنی چور راستہ اختیار کیا جائے وہ کالا قانون اور سب کے لیے نقصان کا باعث ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کا معاملہ عدالتی تقسیم، جانبداری کے مبہم فیصلوں سے گھمبیر بنادیا گیا ہے، ملک بھر میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بہت خوفناک ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کا احتجاج کا ہر اول دستہ بننا نئی تاریخ بھی ہے، خطرناک بھی ہے۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے لاپتہ افراد کا مسئلہ آئین اور قانون کے مطابق حل کرے۔ ریاستی اداروں کو غیرآئینی کردار کا کوئی حق حاصل نہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ کچے کے ڈاکو پکے کے سہولت کاروں کی وجہ سے محفوظ اور طاقت ور ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ پہلے واپڈا سے بجلی تقسیم اور بل وصولی کا اختیار لے کر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے حوالے کیا گیا، نجی پاور پلانٹس کیساتھ ظالمانہ معاہدے کئے گئے جس کا نتیجہ کیپیسٹی چارجز، اووربلنگ اور ناقابلِ برداشت بجلی بلوں کی صورت میں عوام بھگت رہے ہیں، اب ان منافع بخش تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)کو نجکاری کا شکار کرکے لوٹ مار کی نئی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ نجکاری کی بجائے تمام سرکاری، حکومتی اداروں کے اندر موجود تکنیکی اور کمرشل خرابیاں دور کی جائیں، منافع بخش سرکاری اداروں کی نجکاری ملک و قوم کے مفادمیںنہیںہے۔
