English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک غیر مستحکم آئین محفوظ ہے نہ ہی ادارے،مولانا فضل الرحمن

القمر

کراچی ( اسٹاف رپورٹر + مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہے نہ معاشی، ملک میں آئین محفوظ ہے نہ ادارے، آئین پر عملدرآمد نہ ہونے سے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ یہ حکومت مزید نہیں چل سکتی، فوری طور پر صاف شفاف انتخابات کروائے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا ہمارے ساتھ کاروبار کرنے کو تیار نہیں ہے، ہماری معیشت بھی ٹھیک نہیں، آئین پر عمل نہ کرنے سے ملک کا ہر ادارہ کمزور ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی میں بزنس کیمونٹی کی دلچسپی پر خوشی ہے، آئی ٹی کے شعبے سے ریونیو کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیںاتوار کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ملک کے کسی حصے میں حکومتی رٹ نہیں، سندھ کے کچے میں آئے روز ڈاکو لوگوں کو اٹھاکر لے جاتے ہیں، بلوچستان میں قومی شاہراہ بند کرنا چاہیں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ 2018ء اور 2024ء کے جعلی انتخابات کے نتیجے میں مستحکم حکومتیں نہیں آئیں، انتخابات میں کرپٹ لوگوں کو مسلط کیا جاتا ہے۔ حکومتی عہدیدار اعتراف کرچکے ہیں کہ حکومت نہیں چل رہی۔ آئی ایم ایف کو پاکستانی حکمرانوں نے مسلط کیا ہے، مہنگائی میں کمی سے متعلق مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے، ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔ علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمٰن نے وفد کے ساتھ جامعہ بنوری ٹاؤن کا دورہ کیا اور شیخ الحدیث مولانا انور بدخشانی مرحوم کے انتقال پر تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا بدخشانی مرحوم کی رحلت سے علم کا ایک باب بند ہوگیا۔مولانا بدخشانی مرحوم کو دینی علوم وفنون پر بڑی دسترس تھی۔ مرحوم کی علمی و تحقیقی تصانیف سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ استفادہ کررہے ہیں۔ مولانا بدخشانی مرحوم کی دینی و علمی خدمات کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر مولانا بدخشانی مرحوم کے بیٹے مفتی محمد انس اور دیگر اہلخانہ سمیت بنوری ٹاؤن کے نائب مہتمم مولانا سید احمد بنوری، مولانا امداداللہ یوسف زئی، مولانا طلحہ رحمانی بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے