حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین حفیظ الدین نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک سمیت ملک کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کا آڈٹ کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا گردشی قرضہ 2 ہزار ارب سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ صارفین سے 1000 ارب وصول کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے معاہدوں کی وجہ سے پاکستان سے انڈسٹری ختم ہو رہی ہیں ،ایک طرف صنعت کار پریشان ہیں تو دوسری جانب مہنگائی بڑھ رہی ہے ،انہوںنے کہاکہ ایم کیو ایم قومی مسائل پرخاموش نہیں رہے گی،حکومت کی اتحادی ہونے کے باوجود عوامی مسائل پر اپنا کردار ادا کرے گی، انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی اور ان پر ناجائز لگائے گئے ٹیکسسز اور کے الیکٹرک اور حیسکو حیدرآباد کراچی سے انڈسٹریز کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں، لہذا ان آئی پی پیز اور بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ادا شدہ رقوم، معاملات کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے تا کہ قوم کے سامنے سارے حالات واقعات سامنے آئیں ،توانائی کے شعبے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم آئی پی پیز مالکان کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ترقی میں حائل نہ ہوں ہم عالمی معاہدوں کا احترام کرتے ہیں لیکن ان معاہدوں کی آڑ میں کھلواڑ اور ملکی جڑیں کھوکھلی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔حق پرست رکن قومی اسمبلی پر وفیسر عبد العلیم خانزادہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج حیدرآباد میں کس طرح مہنگی بجلی، خراب انفرااسٹرکچر کے باعث صنعتیں بند ہو رہی ہیں ،گیس کے مہنگا ہونے کے باعث حیدرآباد کی عالمی پہچان چوڑی کی صنعت دم توڑ گئی ہے، اسی طرح ٹیکسٹائل ملز کی بڑی تعداد بند ہو گئی ہیں اور اسی طرح جفت سازی کی صنعت بھی ختم ہو گئی ہیں۔اس موقع پر ایم این اے عبدالعظیم خانزادہ، صدر چیمبرز آف کامرس عدیل صدیقی اور دیگر بھی موجود تھے۔
