بیروت /غزہ /تل ابیب /نیویارک /واشنگٹن /اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /اے پی پی /صباح نیوز /آن لائن)لبنان پر اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 600سے متجاوزہوگئی جب کہ 1835 افراد زخمی ہوگئے۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق افراد میں 50 بچے اور 94 خواتین شامل ہیں۔ لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا کہنا تھا کہ بیروت پر اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی کرکی محفوظ رہے۔لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر 200 کے قریب راکٹ داغ دیے۔حزب اللہ کی جانب سے شمالی علاقے کی اسرائیلی فوجی چوکیوں اور حیفہ شہر میں رافیل ڈیفنس انڈسٹری کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔ادھر لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد مصر نے بیروت آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کر دیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیا گیا حملہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ تھا جس میں اسرائیل نے لبنان کے شمالی اور جنوبی حصے پر ایک وقت میں حملہ کیا۔اسرائیل کی جانب سے لبنان کے شہروں پر جاری خوفناک بمباری کے بعد ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل پڑے۔الجزیرہ کے مطابق شہری آبادیوں پر اسرائیلی حملوں کے بعد اب لبنان کے لوگ گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، ہزاروں لوگ محفوظ علاقوں کی طرف جارہے ہیں جس کے سبب دارالحکومت بیروت کی سڑکوں سمیت لبنان کی مختلف ہائی ویز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے یحییٰ السنوار سے متعلق اسرائیلی پروپیگنڈا کو جھوٹا قرار دے کر مسترد کردیا۔اپنے ایک بیان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا کہ حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار غزہ میں خیریت سے ہیں اور غزہ میں حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح رابطے میں ہے‘ یحییٰ السنوار غزہ میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی قیادت کر رہے ہیں، یحییٰ السنوار سے رابطہ منقطع ہونے کا اسرائیلی پروپیگنڈا جھوٹا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جھوٹی خبریں پھیلا کر فلسطینی عوام کے حوصلے توڑنا چاہتا ہے لیکن وہ ثابت قدم عظیم فلسطینی عوام کے حوصلوں کو کبھی شکست نہیں دے سکے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان پر وحشیانہ بمباری جاری رکھنے کے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کوقتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی ہمارے نشانے پر ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی ہیڈ کوارٹر میں فوجیوں سے خطاب میں کہا کہ لبنانی عوام ہماری وارننگ کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر اپنے گھروں سے نکل جائیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے رہائشی علاقوں پر وحشیانہ بمباری کا جواز پیش کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ حزب اللہ ان گھروں میں میزائل اور خود کار ہتھیار رکھ رہی ہے جس سے ہمیں نشانہ بنایا جاتا ہے‘اسرائیلی فوج کو اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کے لیے حزب اللہ کو جواب دیتی ہے‘ لبنان کے عوام سے ہماری کوئی جنگ نہیں۔ گروپ سیون کے رکن ممالک نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مزید جارحیت سے کسی ملک کوفائدہ نہیں ہو گا۔عرب میڈیا کے مطابق یہ مؤقف گزشتہ روز نیویارک میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران سامنے آیا جس میں گروپ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اقدامات اور جوابی ردعمل کے نتیجے میں تشدد کا یہ خطرناک گول چکر بڑھ سکتا ہے ، یہ پورے مشرق وسطی کو ایک وسیع تر علاقائی تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے جس کے نتائج کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ دریں اثنا چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے لبنانی ہم منصب عبداللہ بو حبیب سے کہا ہے کہ لبنان کے امن اور خود مختاری کے حوالے سے چین اس کی حمایت کرتا ہے اور وسیع پیمانے پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ان خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ غزہ کے بعد لبنان پر حملوںکے پیش نظر اسرائیل میں ایک ہفتے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق قابض صہیونی ریاست نے حماس اور حزب اللہ سے جھڑپوں کے بعد پورے ملک میں اسپیشل ہوم فرنٹ سچویشن یعنی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ امریکا نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث امریکا مشرق وسطیٰ میں اضافی افواج بھیجے گا۔ العربیہ اردو کے مطابق پینٹاگون کے پریس سیکرٹری میجر جنرل پیٹ رائڈر نے اضافی فورسز کی تعداد یا ان کو تفویض کی جانے والی خدمات کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس وقت خطے میں امریکا کے تقریباً 40 ہزار فوجی موجود ہیں۔ پاکستان نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ لبنان کے خلاف جارحیت کا یہ عمل اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جس نے پہلے سے ہی غیر مستحکم خطے میں امن و سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کے خلاف اسرائیل کی تازہ ترین فوجی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس میں سیکڑوں شہریوں کا قتل عام ہوا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو خطے میں اس کی خطرناک مہم جوئی و جارحیت اور نسل کشی کی کارروائیوں کا محاسبہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
