لبنان میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں اور مسلسل بمباری کے نتیجے میں 90 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ حملے لبنان کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں جن میں خاص طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جب کہ انسانی ہمدردی کی تنظیمیں متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
صہیونی ریاست کے پیدا کردہ نئے بحران نے لبنان میں انسانی بحران کو مزید بگاڑ دیا ہے اور عالمی برادری نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لوگ بنیادی ضروریات کی کمی کا شکار ہیں اور انسانی امداد کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ یہ صورت حال خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔
خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں اور غزہ کے بعد اب لبنان میں حملوں کے نتیجے میں امن کی بحالی میں مزید مشکلات پیش آئیں گی۔
بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل نے لبنان کی شہری آبادیوں پر ہزاروں میزائل برسا دیے، وحشیانہ حملوں میں جاں بحق لبنانیوں کی تعداد 570 سے تجاوز کرگئی جبکہ 18 سو سے زائد افراد زخمی ہوچکے اور 90 ہزار سے زیادہ در در بھٹکنے پر مجبور ہیں۔
دارالحکومت بیروت پر تازہ حملے میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر ابراہیم قبیسی شہید ہوگئے جبکہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے سیکڑوں لبنانی شہری شام میں داخل ہوئے ہیں۔
اسرائلی فوج نے حملوں سے چند گھنٹے پہلے لبنانی شہریوں کو ٹیکسٹ میسیجز بھیجے تھے جن میں حزب اللہ کے زیرِ استعمال گھروں اور عمارات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی، جس کے بعد لبنان کی شہری آبادیوں پر اندھا دھند میزائل برسا دیے گئے۔
گزشتہ روز سی بی ایس کے ایک انٹرویو کے دوران سابق امریکی وزیر دفاع لیون ایڈورڈ پنیٹا نے اسرائیل کے لبنان میں کیے گئے حملے کی سخت مذمت کی۔
پنیٹا نے مزید کہا کہ ڈیوائسز میں بارودی مواد رکھنا دہشت گردی ہے اور دنیا کو اس معاملے پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ اگر ایسی کارروائیوں کو روکا نہ گیا تو یہ مستقبل کی جنگوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

