سبی( آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی سید جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست کا المیہ اور ہماری بدقسمتی ہے کہ کامیاب ہونے پر خوشیاں اور ناکامی کی صورت میں دھاندلی کے الزمات عائد کیے جاتے ہیں، بلوچستان کے سلگتے مسائل کو حل کرنے کے لئے اب وفاقی سلح پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا بلوچستان میں بے روزگار ی غربت اور تعلیم کے مواقع کا فقدان ہے پاکستان مسلم لیگ ن بلوچستان کو امن خوشحالی ترقی کا گہوراہ بنانے کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم سے بلوچستان بھر کے سیاست دانوں کو بلوچستان کے مسئلہ پر مل بیٹھنے کا پیغام دے رہا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم پی اے ہوسٹل کوئٹہ میں آئی این پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سینٹرل ووکنگ کمیٹی کے رکن و ایم ایس ایف کے صوبائی صدر میر حیدر خان اچکزئی ، شفیع اللہ سبی پریس کلب کے سرپرست اعلیٰ میاں محمد یوسف ، آفس سیکر ٹری ظہور احمد مگسی ۔ آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید طاہرعلی کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن کے دیگر عہدیداروں کارکناں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ، رکن قومی اسمبلی و پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی جنرل سیکرٹری سید جمال شاہ کاکڑ کا کہنا تھا کہ جنرل الیکشن میں پارٹی کو عوام نے اپنے ووٹ کی پرچی دی پاکستانی سیاست کا المیہ اور ہماری بدقسمتی ہے کہ کامیاب ہونے کی صورت میں خوشیاں منائی جاتی ہے اور ناکامی کی صورت میں الزمات عائد کیے جاتے ہیں امریکا بھارت سمیت ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہوتا بلوچستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہم نے بلوچستان کے تمام سیاست دانوں کو مل بیٹھنے کا مشورہ دیا تاکہ امن اور ترقی کاسفر جاری ہوسکے بلوچستان کا اصل مسئلہ بے روزگاری غریب اور تعلیم کا نہ ہونا ہے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد و مرکزی صدر میاں نوازشریف وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سمیت مرکزی قیادت کو اب بلوچستان پر خصسوصی توجہ دینا ہوگی اور تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی سے وابستہ ہے بلوچستان قدرت کا تحفہ ہے جس میں قدرتی وسائل کی کمی نہیں ساحل اور مدنی دولت سے مالا مال صوبہ ہے سابق ادوار میں مسلم لیگ ن نے کئی میگا پروجیکٹ دئیے سی پیک موٹر وے سے ترقی اور خوشحالی کا نیا سفر شروع ہوگا ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر مکمل اختیار ہو تاکہ ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں ۔
