اترپردیش:بدعقیدگی میں انسان کسی بھی حد تک گرسکتا ہے۔ اس کی ایک گھناؤنی مثال بھارت میں سامنے آئی ہے۔ اتر پردیش کے ایک اسکول میں دوسری جماعت کے کے بہیمانہ قتل کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بچے کو اسکول کے حالات بہتر بنانے کے لیے قتل کیا گیا۔ اسکول کے مالی حالات خراب تھے۔
بچے کو قتل کرنے والوں کو اس بات کا بھرپور یقین تھا کہ اس “قربانی” سے اسکول کی مالی حالت درست ہوجائے گی اور اسکول ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔ بچے کی “قربانی” کا آئیڈیا اسکول کے مالک کا تھا۔ بچے کو 6 ستمبر کو بھی قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا مگر تب ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔
اس کیس میں اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ یہ سنگین واقعہ اتر پردیش کے ضلع ہاتھرس میں رونما ہوا تھا۔ یہ کالے جادو کا معاملہ تھا۔ اسکول کے حالات بہتر بنانے اور اِسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بچے کی قربانی درکار تھی۔ 22 ستمبر کو بچے کو ہاسٹل کے کمرے میں جکڑ لیا گیا۔ اسکول کے مالک کا باپ مبینہ طور پر کالے جادو کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
6 ستمبر کو جب بچے کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تب وہ خبردار ہوگیا اور بھاگ نکلا تاہم بچے نے گھر جاکر کسی کو بتایا نہیں۔ بچے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے تصدیق ہوگئی ہے کہ اُسے کئی افراد نے پکڑ کر قتل کیا۔
22 ستمبر کو بچے کو کالے جادو کے عمل کے دوران قتل کے لیے اسکول کے عقب میں واقع ٹیوب پر لے جایا جارہا تھا کہ وہ بیدار ہوگیا اور شور مچانے کی کوشش کی۔ ملزمان گھبراہٹ میں اُسے دوبارہ اسکول کے اندر لے آئے۔
تحقیقات کے نتیجے میں ٹیوب ویل کے نزدیک کالے جادو میں استعمال ہونے والی چیزیں ملی ہیں۔ اس کے بعد پولیس کو تفتیش میں مدد ملی اور وہ ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

