English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مشن ابھی مکمل نہیں ہوا آنے والے دنوں میں مزید کچھ ہوگا،نیتن یاہو کی دھمکی

القمر

مقبوضہ بیت المقدس/بیرون /صنعا/غزہ / نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک +خبرایجنسیاں) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ مشن ابھی مکمل نہیں ہوا، آنے والے دنوں میں مزید کچھ ہوگا۔ عرب میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے ہمیں آسانی سے شکار ہوجانے والی مچھلی کہا لیکن ہم نے خود کو فولاد کا تار ثابت کیا،خطے میں طاقت کے توازن کے لیے حسن نصر اللہ کو مارنا ضروری تھا، اسرائیل کے لیے خطرہ بننے والے باب کو ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔ قبل ازیںحزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو فضائی حملے میں قتل کرنے کے بعد ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ ایران یا مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی ہمارے لمبے ہاتھوں کی پہنچ سے دور نہیں، میں نے حسن نصراللہ کو قتل کرنے کا حکم دیا کیونکہ حزب اللہ کے رہنما کا خاتمہ اسرائیل کے شمالی باشندوں کی محفوظ واپسی کے لیے ضروری تھا،ہم نے لاتعداد اسرائیلیوں، درجنوں امریکی اور فرانسیسی شہریوں کے قاتل کے ساتھ حساب چْکتا کردیا،یہ عظیم دن ہیں جس میں اسرائیل عروج پر ہے اور جیت رہا ہے، حسن نصر اللہ کا قتل ایک تاریخی موڑ ہے جو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے، ہم مل کر لڑیں گے اور خدا کی مدد سے ہم مل کر جیتیں گے۔انہوں نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران یا مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی اسرائیل کے لمبے ہاتھوں کی پہنچ سے دور نہیں اور آج آپ جانتے ہیں کہ یہ کتنا سچ ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہمیں آنے والے دنوں میں اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ہم شمالی اسرائیل میں اپنے باشندوں کی ان کے گھروں کو واپسی اور یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنائیں گے، حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو جب نظر آئے گا کہ اب حزب اللہ اسے بچانے نہیں آ رہی تو ہمارے یرغمالیوں کی واپسی کے امکانات اتنے ہی زیادہ روشن ہوں گے۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کے کمانڈر نے بھی دھمکی دی کہ ہم حزب اللہ کے نئے سربراہ کو بھی نشانہ بنائیں گے، یرغمالیوں کی رہائی اور یہودیوں کی آبادکاری تک جنگ جاری رہے گی۔ادھر ایران نے لبنان اور پورے خطے میں اسرائیلی اقدامات پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا۔اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب عامر سعید اراوانی نے حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کو خط لکھ دیا۔ایرانی مندوب نے خبر دار کیا کہ ایران کی سفارتی حدود اور نمائندوں کے خلاف کسی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ہم بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے قومی اور سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کیلئے اپنا حق استعمال کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔دوسری جانب لبنان کی فوج نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں اور کشیدگی کے اقدامات سے گریز کریں۔ خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق لبنان کی فوج نے ایک بیان میں عوام سے مطالبہ کیا کہ ایسے کسی قدم سے گریز کریں جس کے نتیجے میں شہری امن میں خلل پڑسکتا ہے اور کہا کہ موجودہ حالات ملک کے لیے خطرناک اور نازک ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل دشمن ملک ہے جو تباہی پھیلانے کے اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور لبنان کے عوام میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور زور دیا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری سیکورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔خیال رہے کہ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کو بیروت کے مضافات میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیل کی بمباری سے شہید ہوگئے تھے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی کا بدترین موڈ ہے۔لبنان کی وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق 8 اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیل کی بمباری اور فائرنگ سے لبنان کے ایک ہزار 673 شہری شہید ہوگئے ہیں، جن میں 194 خواتین اور 104 بچے شامل ہیں۔وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں 8 ہزار 600 سے زائد لبنانی شہری زخمی ہوگئی ہیں۔عالمی برادری پہلے ہی خبردار کرچکی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر ہونے والے حملوں سے خطے میں جاری لڑائی مزید پھیلے گی اور پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔ادھر یمن کے حوثی باغیوں نے نیتن یاہو کی آمد کے وقت تل ابیب کے ائرپورٹ پر بیلسٹک میزائل داغ دیا۔یمن کے حوثی باغیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے ہفتے کو ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بن گوریان انٹرنیشنل ائرپورٹ پر میزائل حملہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی آمد کے وقت کیا گیا تھا۔حوثی رہنما نے کہا کہ زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل جسے ہفتہ کی شام تل ابیب کی طرف فائر کیا تھا اس کا وقت وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی اسرائیل میں لینڈنگ کا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ حسن نصراللہ کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے نیتن یاہو کے طیارے کے تل ابیب ہوائی اڈے پر اترنے کے کم از کم آدھے گھنٹے بعد میزائل داغا گیا تھا جس کو فضائی دفاع نے ملکی سرحدوں سے باہر ہی مار گرایا۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد ہفتے کو اسرائیل واپس آئے تھے۔دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہماری تحریک ثابت قدم ہے۔پاکستانی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دشمن سفارتکاری کو نہیں مانتا، ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔خالد قدومی نے کہا کہ ہم صبر کرتے رہے اور اسرائیل کو جواب نہ دیا تو اس کی جرات اور بڑھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران غزہ میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، خطے کی کشیدہ صورتحال کے حل کے لیے عالمی برادری کوکردار ادا کرناہوگا۔حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے کی ری انجینئرنگ میں مصروف ہے، اسرائیل کو جواب دینا ہمارا فرض ہے۔خالد قدومی نے کہا کہ فلسطین کی آزادی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے یمن میں راس عیسیٰ اور حدیدہ کے علاقوں میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ فضائی آپریشن میں لڑاکا طیاروں نے راس عیسیٰ کے علاقوں میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔بیان میں کہ گیا کہ اسرائیلی فوج نے فضائی حملے میں پاور پلانٹس اور ایک سمندری بندرگاہ کو نشانہ بنایا جو تیل کی درآمد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔واقعے میں 4افراد کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی لاش تباہ حال عمارت کے ملبے سے 24 گھنٹے بعد مل گئی۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک طبی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ حسن نصر اللہ کی لاش ملبے سے نکال لی گئی۔اندھا دھند بمباری کے باوجود حسن نصر اللہ کے جسد خاکی پر کسی بڑے زخم کا کوئی نشان نہیں تھا جس سے لگتا ہے کہ ان کی شہادت دھماکے کی شدت سے ہوئی تھی۔حسن نصر اللہ کی لاش کو اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم اب تک حزب اللہ کی جانب سے لاش کے ملنے اور ان کی نماز جنازہ کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ادھر مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حسن نصر اللہ کی لاش ملنے کے بعد قائدین نے نماز جنازہ سے متعلق فیصلہ کرلیا ہے جس کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔گزشتہ روز حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی تھی کہ حسن نصر اللہ شہید ہوگئے تاہم یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کی شہادت کیسے اور کہاں ہوئی۔دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ حسن نصر اللہ کو حزب اللہ کے زیر زمین ہیڈ کوارٹر میں بنکر بسٹر بموں سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ان کے اہم ترین ساتھی کمانڈر علی کرک بھی مارے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے