اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جمعرات کو آئین کے آرٹیکل 63(A) کی تشریح سے متعلق اپنے 2022 کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں قانون سازوں کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوران پارٹی ہدایات کے خلاف جانے سے روک دیا گیا تھا۔
اس بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں ۔
بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان عدالت سے خود مخاطب ہونا چاہتے ہیں، عمران خان کو وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں گذارشات رکھنا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو ہدایت دی کہ اچھا آگے چلیں، دلائل شروع کریں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے پہلے دن کوئی اور اعتراض اٹھایا آج ایک اعتراض اٹھایا گیا آپ سینئر وکیل ہیں کیس کو آگے بڑھائیں۔
اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایک مجوزہ آئینی پیکج کا آرٹیکل 63 اے سے تعلق ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر شروع کرنا ہے تو پھر یہاں سے شروع کریں آرٹیکل 63 اے کا ریفرنس کیسے اور کن حالات میں آیا اور یہ بھی بتائیں پھر اس وقت نیت کیا تھی۔
بعد ازاں عدالت نے آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

