English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نجر قتل کیس میں ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے، کینیڈین وزیرِاعظم کا اعتراف

کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے تسلیم کیا ہے کہ کینیڈین سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے بارے میں اب تک جو کچھ کہا گیا ہے وہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کہا گیا ہے، کوئی ٹھوس ثبوت تاحال نہیں مل سکا ہے۔

ایک بیان میں جسٹن ٹروڈو نے تسلیم کیا کہ خفیہ اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر بھارت سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بارے میں تفتیش کی گئی۔ اب تک ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ہے جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ اس قتل میں بھارتی حکومت براہِ راست ملوث تھی یا ہوسکتی تھی۔

جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ اس قتل میں بھارتی باشندہ یا باشندے ملوث ہوں تاہم اس مرحلے پر بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے بارے میں پورے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

یاد رہے کہ کینیڈین حکومت گزشتہ برس اپنے صوبے برٹش کولمبیا میں خالصتان نواز سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے لیے بھارتی باشندوں اور حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتی رہی ہے۔ گزشتہ برس اس معاملے میں اتنی گرما گرمی پیدا ہوئی کہ دونوں ملکوں نے سفارتی تعلقات کی سطح گرادی اور درجنوں سفارت کار واپس بلالیے۔

چار دن قبل کینیڈین تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ اس کیس میں کینیڈا کے لیے بھارت کے ہائی کمشنر سنجے کمار ورما اور چند دوسرے سینیر سفارت کار پرسنز آف انٹریسٹ ہیں اس لیے اُن سے پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔ اس پر بھارت نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہائی کمشنر کو واپس طلب کرلیا تھا مگر اس سے قبل کینیڈین حکومت نے اُنہیں نکل جانے کا حکم دے دیا۔

بھارت نے بھی چند کینیڈین سفارت کاروں کو نکال دیا ہے۔ اس معاملے میں کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی کینیڈ کا ساتھ دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ امریکا میں کینیڈین سکھ لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کے بے نقاب ہونے پر بھی بھارت کو گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کیس میں ایک بھارتی باشندہ نکھل گپتا گرفتار کیا جاچکا ہے۔ بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کا ایک سابق افسر بھی اس معاملے میں ملوث پایا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے