ویب ڈیسک —

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے اہل کار نے امریکی شہری کو فرسٹ امینڈمینٹ کے تحت حاصل حقوق استعمال کرنے کی وجہ سے انہیں امریکی سر زمین پر نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ان کے بقول ایف بی آئی اس طرح کے پرتشدد الزامات کو کسی طور قبول نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے غیر ملکیوں کا پتہ لگائیں گے، ان کی سرگرمیوں کو روکیں گے اور ان کو جوابدہ ٹھہرائیں گے جو بین الاقوامی سطح پر جابرانہ اقدامات میں ملوث ہیں۔
اس سے قبل کی کارروائی
اس سال ستمبر میں نیویارک کےسدرن ڈسٹرک کورٹ نے خالصتان تحریک کے حامی علیحدگی پسند سکھ رہنما گرپتونت سکھ کے قتل کی سازش کے الزام میں دائر ایک مقدمے میں بھارتی حکومت کے قومی سلامتی کی مشیر اجیت ڈوول، خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ سامنت گویل، را کے ایجنٹ وکرم یادو اور بھارتی بزنس مین نکھل گپتا سے 21 روز میں جواب طلب کیا تھا۔

جس کے بعد بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے امریکی عدالت کے سمن کے بارے میں سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ سامنے آتے ہی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا تھا اور ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں سکھوں کی علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کی حامی تنظیم ’سکھس فور جسٹس‘ کے سربراہ ہیں۔ بھارت نے 2020 میں نفرت پھیلانے کے الزامات میں اس تنظیم پر پابندی عائد کردی تھی۔
پنوں امریکہ اور کینیڈا کی دہری شہریت رکھتے ہیں۔ بھارت نے انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مطلوبہ افراد کی فہرست میں بھی شامل کر رکھا ہے۔
گزشہ برس چیک ری پبلکن نے نیویارک میں گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ کی درخواست پر بھارتی بزنس مین نکھل گپتا کو حراست میں لیا تھا۔ گپتا کو رواں برس جون میں امریکہ منتقل کیا گیا تھا۔
بھارت گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش میں اپنے انٹیلیجینس حکام کے ملوث ہونے کی تردید کرتا آیا ہے اور ایسی رپورٹس کو ’غیر ضروری اور بلاجواز‘ قرار دیتا رہا ہے۔


الزامات کا آغاز کینیڈا سے ہوا
بیرون ملک ہونے والی ہلاکتوں میں ‘را’ کے ملوث ہونے کے الزامات پہلی بار پچھلے سال ستمبر میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے تھے کہ کینیڈا سرگرمی سے ان قابل اعتبار الزامات پر کام کر رہا ہے جن کے مطابق کینیڈا کے ایک شہری ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا تعلق ممکنہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنٹوں سے تھا۔
کینیڈا کے علاقے برٹش کولمبیا میں ایک سکھ گرودوارے کے باہر دو نقاب پوش مسلح افراد نے ہردیپ سنگھ نجر کو کار میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ نجر ایک سرگرم سکھ کارکن تھے جنہیں بھارت نے 2020 میں دہشت گرد قرار دیا تھا۔
ٹروڈو کے اس بیان کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا اور بھارت نے قتل کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
اس رپورٹ کے لیے کچھ معلومات رائٹرز اور اے پی سے لی گئی ہیں
