حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ملک میں کسی بھی آئینی ترمیم کی ضروروت نہیں، 26 آئینی ترمیم کو غلط سمجھتے ہیں، جلد بازی کا نتیجہ قوم بھگتتی ہے، بزور طاقت کسی بھی آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہیں، حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ متو سط اور غریب طبقے کو ضروریات زندگی اور گھر کی چھت فراہم کرے، قبضہ گروپوں اور چائنہ کٹنگ کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی کرکے کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے لاکھوں مکینوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے کچی آبادی قانون کے تحت مالکانہ حقوق دیے جائیں، غریب کم آمدنی والے شہریوں کو سستی رہائشی کالونیاں بنا کر رہائش کی سہولیات کے ساتھ صحت، تعلیم، روزگار، پانی اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کی جائے۔ ان الفاظ کا اعادہ چیف جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد سربراہ عام لوگ اتحاد نے ملک بھر کی کچی آبادیوں اور گوٹھوں کی نمائندہ تنظیم کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان ’’کاگف‘‘ کے تاحیات چیئرمین سفیر امن صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، ملاقات میں موجودہ ملکی حالات، کچی آبادیوں اور گوٹھوں کو در پیش مسائل اور 26 ویں آئینی ترمیم اور باہمی اُمور پر تبادلہ خیال ہوا۔ صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے چیف جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کو 45 ویں آل پاکستان کچی آبادیز اینڈ گوٹھ کنونشن میں شرکت کی دعوت پیش کی جو وجیہہ الدین احمد نے قبول کی اور شرکت کی یقین دہانی کراتے ہو ئے کہا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، باضمیر باہمت ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے آئینی پیکیج کو مسترد کرنے کی بھر پور حمایت کرتے ہیں، وقت کے ساتھ آئین پاکستان میں بھی ترامیم کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے طویل مشاورت آئینی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے، ایسی ترامیم ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر ضمیر کی آواز پر آزادی سے ہونی چاہییں۔ ’’کاگف‘‘ کے چیئرمین صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بدعنوان نوکر شاہی لینڈ مافیا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف 40فیصد ووٹ بینک کے حامل پاکستانی شہری اپنے حقوق کے حصول کے لیے تحریک چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا ان کے سہولت کاروں اور بد عنوانوں کے خلاف ’’کاگف‘‘ کا جہاد جاری رہے گا، 10 نومبر کے بعد مہنگائی، بیروزگاری، اقربا پروری، بد عنوانوں اور لینڈ مافیا ان کی سہولت کا نوکر شاہی کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔
