بھارت میں طیاروں پر بم کی افواہوں کا سلسلہ رُک نہیں پارہا۔ تین دن قبل محض دو دن میں بارہ پروازوں پر بم کی اطلاع دینے والی کالز موصول ہوئی تھیں۔ ہفتے کو صرف چوبیس گھنٹے میں چودہ پروازوں پر بم کی افواہ نے حکام کا ناک میں دم کردیا۔
دہلی سے لندن جانے والی وِستارا ایئر لائن کی ایک پرواز کا رخ موڑ کر جرمن شہر فرینکفرٹ میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ دبئی آنے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کی ایک پروز کو جے پور میں لینڈنگ کرواکے جامع تلاش لی گئی۔
محض چوبیس گھنٹوں کے دورا چودہ پروازوں پر بم کی افواہ نے حکام کو پریشان کردیا ہے۔ کئی ایئر پورٹ پر ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی۔ ہنگامی لینڈنگ سے ایک طرف تو ایئر لائن کے اخراجات میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈیگو اور آکاسا ایئر لائن کی پانچ پانچ پروازوں کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکی ملی۔ وستارا ایئر لائن کی تین پروازوں کو دھمکی دی گئی۔
ہفتے کی صبح وستارا ایئر لائن کی تینوں انٹرنیشنل پروازوں کو فون کال کے ذریعے بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی۔ ایئر لائن نے متعلقہ حکام کو خبردار کردیا۔ ہنگامی لینڈنگ اور جامع تلاشی کے بعد بم کی اطلاعات محض افواہ ثابت ہوئیں۔
حکام نے بتایا کہ دبئی سے جے پور آنے والی پرواز پر بم کی اطلاع ای میل کے ذریعے دی گئی۔ جے پور میں طیارے کی بھرپور تلاشی لی گئی مگر کوئی بم برآمد نہیں ہوا۔ اس پرواز میں 189 مسافر تھے۔ ممبئی سے بنگلور، ممبئی سے استنبول، دہلی سے استنبول، جودھپور سے دہلی اور دیگر پروازوں کے مسافروں کو بم کی اطلاع پر شدید الجھن کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک ہفتے کے دوران تیس سے زائد پروازوں پر بم کی اطلاع دے کر متعلقہ حکام اور مسافروں کو پریشان کیا گیا ہے۔ بھارتی شہری ہوابازی کی وزارت، وزارتِ داخلہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مل کر ایسی تمام کالز سے نپٹنے کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ بم کی جھوٹی اطلاع دے کر مسائل پیدا کرنے والوں سے سختی سے نپٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفتیشی اداروں نے شرارت کے طور پر کی جانے والی ای میل کے الفاظ کی شناخت بھی کرلی ہے۔ ان میں درج ہوتا ہے بم سے ہر طرف تباہی پھیلے گی، بم رکھوادیا ہے، یہ کوئی مذاق نہیں، تم سب مر جاؤگے وغیرہ وغیرہ۔
ممبئی پولیس نے پرواز پر بم کی جھوٹی اطلاع دینے پر ریاست چھتیس گڑھ کے ایک سترہ سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔ اس نے ممبئی سے شروع ہونے والی تین پروازوں پر بم کی اطلاع دے کر حکام اور مسافروں کو پریشان کیا تھا۔ پولیس نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی این پی) سروس پرووائڈرز سے رابطہ کرکے انہیں دھمکی آمیز پیغامات کے بارے میں مطلع کیا ہے۔ وی این پی سے انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس چھپ جاتا ہے اور کال کے اصل مقام کا تعین بہت دشوار ٹھہرتا ہے۔

