منصورہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں آئینی ترامیم کا سلسلہ جاری ہے اور یہ معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔
منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت اپنی مرضی کے جج اور مرضی کے فیصلے چاہتی ہے اور آئین میں چھیڑ چھاڑ کر کے اپنی مرضی کی ترامیم لائی جا رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت آئینی ترامیم کے مسودے بغیر کسی اطلاع کے پیش کر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس منصور علی نئے چیف جسٹس بننے والے ہیں، لیکن حکومت آئینی ترمیم لا کر اپنے مرضی کے جج کو لانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی (ف) نے کسی آئینی ترمیم پر اتفاق کر لیا ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جائے، لیکن جماعت اسلامی کسی بھی مک مکا پر مبنی ترمیم کو قبول نہیں کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومتی دباؤ اور خریدو فروخت کے الزامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ایکسٹینشن دینی ہوتی ہے تو خریدو فروخت شروع ہو جاتی ہے، اور اس وقت پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) پر دباؤ ہے۔
انہوں نے موجودہ آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم دباؤ کے تحت لائی جا رہی ہے، جس کا مقصد میرٹ کی بجائے حکومتی مرضی کو فوقیت دینا ہے۔
عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کا فقدان ہے اور عوام کو انصاف نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے لوگ عدالتوں کا رخ کرنے سے گریزاں ہیں۔
انہوں نے حکومت کو ریپ کیسز میں عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور فیک نیوز کے معاملات پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ، پنجاب حکومت کو کالج کے معاملے میں شفاف تحقیق کر کے اسٹونڈٹس کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کو ختم کر کے تعلیمی نظام کو متاثر ہونے سے بچائے ۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کو سخت سزا ملنی چاہئے تا کہ آئندہ اس قسم کے معاملات سامنے نہیں آئیں اگر یہ فیک ہے تو طلبہ اس میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں ، لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے پر فل بینچ کا قیام کیا جس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔
موجودہ حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “یہ فارم سینتالیس والی حکومت ہے، جس نے دھاندلی کے ذریعے نواز شریف اور دیگر رہنماؤں کو جتوایا۔ جماعت اسلامی کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی غیر آئینی ترمیم کو قبول نہیں کریں گے۔

