یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ لبنان سے ایک ڈرون وزیراعظم کے شمالی اسرائیلی شہر قیسریہ میں واقع گھر کی جانب بھیجا گیا، تاہم وزیراعظم اس وقت وہاں موجود نہیں تھے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، ڈرون نے ایک عمارت کو نشانہ بنایا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ کس عمارت کو نقصان پہنچا۔ فوج نے مزید بتایا کہ دو دیگر ڈرونز، جو اسرائیلی حدود میں داخل ہوئے تھے، کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
واقعے کے فوراً بعد قیسریہ، جہاں نیتن یاہو کا تعطیلاتی گھر واقع ہے، میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، جس کی اسرائیلی ایمبولینس سروس اور پولیس نے تصدیق کی ہے ۔
اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی، نہ ہی ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ نے، جو کہ پچھلے سال اکتوبر سے اسرائیل کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہے، اور نہ ہی کسی دیگر عسکری گروپ نے اس ڈرون حملے کو قبول کیا ۔
اسرائیل کی لبنان میں جارحیت: 21 افراد جاں بحق
لبنانی صحت حکام نے تصدیق بتایا کہ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو وسعت دیتے ہوئے شمالی لبنان کے مسیحی اکثریتی قصبے عیتو میں فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہو گئے ۔
اس حملے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں بے گھر خاندان رہائش پذیر تھے۔ حملے کے نتیجے میں مزید آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے، اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
اسرائیل کی جارحیت میں شدت آنے کے بعد جنوبی لبنان کے 25 دیہاتوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، اور رہائشیوں کو ندیِ اوالی کے شمال میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر دور ہے۔
حزب اللہ کے خلاف بے رحمانہ کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک فوجی اڈے کے دورے کے دوران، جہاں چار اسرائیلی فوجی حزب اللہ کے ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے، عہد کیا کہ اسرائیل پورے لبنان بشمول دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے خلاف بے رحمی کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گا۔
نیتن یاہو نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے اور وہ لبنانی شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اقوام متحدہ کے امن مشن پر حملے کی اطلاعات
جنگ کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی امن فوج، یونِفِل، کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے، جس نے جنوبی لبنان میں تعینات امن فوجیوں پر فائرنگ کے واقعات کی رپورٹ دی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امن فوجیوں کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، اور یونِفِل نے حالیہ رپورٹ میں اسرائیلی ٹینکوں کی جانب سے ان کے اڈے میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے۔
یونِفِل کے ترجمان نے واضح کیا کہ مشن سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا اور جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
غزہ میں انسانی بحران کی شدت
دوسری جانب، غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 42,289 سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً 1لاکھ زخمی ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین حملوں میں شمالی غزہ میں کم از کم 29 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں سے 10 افراد خوراک کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
جنگ بندی کے عالمی مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اسرائیل، امریکا کی حمایت سے، حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

