اوٹاوا : کینیڈا کی وزیرِخارجہ میلونی جولی نے کہا ہے کہ جن بھارتی سفارت کاروں نے اپنی ناپسندیدہ سرگرمیوں سے کینیڈا کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا اُنہیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
ایک پریس بریفنگ میں میلونی جولی نے کہا کہ بھارتی سفارت کاروں کے خلاف ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ انہوں نے اپنے منصب سے ہٹ کر ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیا جن کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تفتیش کاروں نے بھارتی سفارت کاروں کی سرگرمیوں کے بارے میں جو کچھ بھی معلوم کیا ہے اُس کی روشنی میں اُنہیں مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا اور جن سفارت کاروں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے اُنہیں کینیڈا کی سرزمین چھوڑنا ہی پڑے گی۔
وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ پریس بریفنگ میں میلونی جولی نے مزید بتایا کہ اب تک 6 بھارتی سفارت کاروں کو نکالا جاچکا ہے اور مزید نوٹس پر ہیں۔ جن سفارت کاروں کو نوٹس دیے جاچکے ہیں اُنہیں بھی کینیڈا سے جانا ہوگا۔ اس معاملے میں کسی طرح کی لچک کی کوئی گنجائش نہیں۔
یاد رہے کہ کینیڈا کے تفتیش کاروں نے امریکا کی معاونت سے تحقیقات کے دوران خالصتان نواز سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی سفارت کاروں کے ملوث ہونے سے متعلق چند بنیادی معلومات حاصل کی ہیں۔ ہردیپ سنگھ نجر کو گزشتہ برس کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ایک گردوارے کے باہر قتل کردیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ کینیڈا اور امریکا کی شہریت کے حامل سکھ لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش میں بھی دو بھارتی باشندے ملوث پائے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ روز نکھل گپتا اور وکاش یادو پر فردِ جرم بھی عائد کردی ہے۔ وکاش یادو کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کا افسر ہے۔ امریکا اور کینیڈا کے دباؤ پر اُسے بھارت میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
نکھل گپتا کو گزشتہ برس چیک جمہوریہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور جون 2024 میں اُسے خصوصی انتظامات کے تحت امریکا منتقل کیا گیا تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش وکاش یادو اور نکھل گپتا نے مل کر تیار کی تھی اور ایک سفید فام امریکی کو گرپتونت سنگھ پنوں کی ’’سپاری‘‘ دی گئی تھی۔ ان دونوں کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہ کرائے کا قاتل امریکی خفیہ اداروں کا سابق ایجنٹ نکلا۔ اس نے متعلقہ اداروں کو خبردار کردیا اور یوں یہ سازش بے نقاب ہوئی۔
ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کے حوالے سے امریکا اور کینیڈا سے بھارت کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور گزشتہ برس بھی معاملہ سفارت کاری کی سطح نیچے لانے تک پہنچ گیا تھا۔ ایک مرحلے پر بھارت اور کینیڈا نے ایک دوسرے کے درجنوں سفارت کار نکال دیے تھے۔
بھارتی حکومت اس پورے معاملے میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ وکاش یادو کی گرفتاری سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش میں بھارتی خفیہ ادارہ ملوث تھا۔ ایک مرحلے پر یہ بھی کہا جارہا تھا کہ بھارت اس پورے معاملے میں اپنی گردن بچانے کے لیے اپنے مرکزی خفیہ ادارے کے سربراہ کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گا مگر پھر اُس کے لیے ایسا کرنا بھی ممکن نہ ہوسکا۔

