20 اکتوبر کو 26ویں آئینی ترمیمی بل کو سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا جس کے بعد آج صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے دستخط کے بعد 26ویں آئینی ترمیمی بل باقاعدہ آئین کا حصہ بن گئی ہیں۔
26ویں آئینی ترمیمی بل کا مقصد اگلے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو دینا ،سپریم کورٹ کے ازخود اختیارات لینا، چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت تین سال مقرر کرنا ہے ۔
26ویں ترمیم کی جھلکیاں:
- چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال مقرر
- سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں آئینی بنچ قائم کیے جائیں گے۔
- ہر بینچ کے سینئر ترین جج پریزائیڈنگ آفیسر کے طور پر کام کریں۔
- پارلیمانی کمیٹی تین سینئر ترین ججوں کے پینل سے نئے چیف جسٹس کو نامزد کرے گی۔
- کمیٹی وزیراعظم کو نام تجویز کرے گی، جو اسے حتمی منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجے گی۔
- جے سی پی، جس کی قیادت سی جے پی اور تین دیگر کرتے ہیں، جو ایس سی ججوں کی تقرری کے لیے ذمہ دار ہیں۔
- جے سی پی ججوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے گا، سپریم جوڈیشل کونسل کو کسی بھی تشویش کی اطلاع دے گا۔
- یکم جنوری 2028 تک ملک سے ربا (سود) کا مکمل خاتمہ۔
آرٹیکل 81 میں ترمیم کے تحت فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے لیے جانے والے اخراجات میں اب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل کے ’افسران اور عملے کے معاوضے سمیت انتظامی اخراجات‘ بھی شامل ہوں گے۔
آرٹیکل 175 اے کی مجوزہ ترامیم میں آئینی بینچز کی تشکیل کو شامل کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں کچھ قابلِ ذکر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
آرٹیکل 184 میں ایک اور تبدیلی بھی کی گئی ہے ، اس ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ سے از خود نوٹس کے اختیارات ختم کردیے گئے ہیں۔
آرٹیکل 186 اے میں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ سے کیسز اپنے پاس ٹرانسفر کرسکتی ہے ، 26 آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سینئر ترین جج چیف جسٹس کے لیے آٹو میٹک چوائس نہیں ہو گا بلکہ چیف جسٹس پاکستان کا انتخاب 3 سینئر ججز میں سے کیا جائے گا۔
آرٹیکل 193 میں تبدیلی کے تحت ہائی کورٹ کے جج کی کم از کم عمر 45 سال سے کم کر کے 40 سال کر دی گئی ہے، آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک نئی شق ون اے شامل کی جائے گی،
آرٹیکل 215 میں تبدیلی کے تحت چیف الیکشن کمیشنر اور الیکشن کمیشن کے رکن کو اجازت ہوگی کہ وہ اگلے فرد کی تعیناتی تک عہدے پر برقرار رہے۔

