English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قاسم رونجھو آپ بیتی سنانا چاہتے تھے ،حکومت نے شرم کے باعث سینیٹ کو توڑا،اختر مینگل

القمر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے سینیٹر قاسم رونجھو سینیٹ کے اجلاس میں اپنی آب بیتی سنانا چاہ رہے تھے، حکومت نے شرم کے باعث کورم توڑا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ 1973 کے آئین کی جس طرح دھجیاں اڑائی گئیں، شاید ہی کسی آمر کے دور میں ایسا ہوا ہو، رات کے اندھیرے میں آئین کا مسودہ پیش کیا جاتا رہا۔ اختر مینگل نے کہا کہ حکومتی وزیر خود مجوزہ آئینی ترمیم پر متفق نہیں تھے۔ سربراہ بی این پی نے دعویٰ کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئی، کل سارا ڈراما حتمی انجام کو پہنچا ہے، اس سارے سرکس کو آصف زرداری کے سرکس کا نام دیں یا انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سرکس کا نام دیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے سینیٹر قاسم رونجھو سینیٹ کے اجلاس میں اپنی آب بیتی سنانا چاہ رہے تھے، حکومت نے شرم کے باعث کورم توڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ہاؤس میں جس کو ایوان بالا یا ایوان زیریں کہا جاتا ہے، جہاں پر انسانوں کی عزتیں محفوظ نہ ہوں، تو اس میں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ استعفا دینے کی وجہ سے بلوچستان سے سیٹ ضائع نہیں ہوجائے گی، جس پر سردار اختر مینگل نے کہا کہ بی این پی بلوچستان کی عزت و ناموس کے لیے ہے، جہاں پر اس کے اراکین کی عزت نہ ہو، وہاں پر بیٹھ کر کیا کریں گے۔ ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ نے قاسم رونجھو کا استعفا منظور کرلیا جس پر سربراہ بی این پی نے جواب دیا کہ جی ہاں، اپنی پارٹی کی ایک اور منحرف سینیٹر نسیمہ احسان سے متعلق سوال پر اختر مینگل نے جواب دیا کہ ان سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے