ٹوکیو: جاپان میں ہفتے کے انتخابات کے بعد وزیراعظم شیگرو ایشیبا کی اسکینڈل زدہ حکومتی اتحاد کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی۔
وزیراعظم ایشیبا نے ایک پریس کانفرنس میں اس صورتحال کو مزید چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے اپنے عہدے پر قائم رہنے کا عزم کیا اور کہا، “ہم موجودہ سیکیورٹی اور اقتصادی حالات میں کسی جمود کے متحمل نہیں ہو سکتے۔” تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت خطرے میں ہے۔
انتخابات میں ایشیبا کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اتحادی جماعت کومیتو کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں نشستیں 279 سے کم ہو کر 215 رہ گئیں۔ حکومتی اتحاد کو مہنگائی اور فنڈنگ اسکینڈل کے الزامات پر عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دو کابینہ وزرا اور کومیتو کے سربراہ کیئیچی ایشی اپنی نشستیں کھو بیٹھے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت کونسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان (سی ڈی پی جے) کو 148 نشستیں ملیں، جو کہ پہلے 98 تھیں، مگر پھر بھی وہ اکثریتی ہدف 233 نشستوں سے پیچھے ہے۔ آئین کے تحت، تمام جماعتوں کے پاس حکومت سازی کے لیے 30 دن ہیں، جس دوران سیاسی معاملات پر مذاکرات کا دور شروع ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایشیبا کی قیادت کی بقا پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ وہ عبوری وزیراعظم کے طور پر کچھ وقت مزید رہیں، مگر نئی حکومت کی تشکیل میں ان کا کردار محدود رہے گا۔
اپوزیشن رہنما یوشیہیکو نوڈا نے اتحادی جماعتوں کے خلاف اتحاد بنانے کا عندیہ دیا ہے، مگر سیاسی ماہرین اس کو ممکنات میں کم قرار دے رہے ہیں۔
جاپان کی بعد از جنگ تاریخ میں تقریباً مستقل اقتدار رکھنے والی ایل ڈی پی کے لیے یہ انتخابی نتائج 2009 کے بعد سب سے بڑی ناکامی قرار دیے جا رہے ہیں۔

