فلپائن کے سابق صدر راڈریگو ڈیوٹرٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی مجرم کو قتل کرنا کسی بھی درجے میں کوئی جرم نہیں۔ جو لوگ معاشرے کے صریح دشمن ہیں اُن سے نجات پانے کی ہر کوشش جائز ہے، اُنہیں قتل کرنا کسی بھی اعتبار سے غیر قانونی فعل نہیں۔
ڈیوٹرٹ نے یہ بیان سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے روبرو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے دیا ہے۔ ڈیوٹرٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے جرائم پیشہ افراد کے قتل میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی اور جب وہ میئر کے منصب پر فائز تھے تب انہوں نے سنگین جرائم میں مبتلا افراد کے قتل کے لیے مجرموں ہی کا سہارا لیا تھا اور ایک خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا تھا۔
راڈریگو ڈیوٹرٹ کا موقف رہا ہے کہ جو لوگ معاشرے اور ریاست کے وجود کو داؤ پر لگانے پر تُلے رہتے ہیں اُنہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں اور انہیں جلد از جلد ٹھکانے لگانے ہی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ کسی بھی مجرم کو زندہ چھوڑنا اُن سے بے وفائی اور غداری ہے جو دن رات محنت کرکے حلال کی کمائی سے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کے لیے چھت کا اہتمام کرتے ہیں۔
’’وار آن ڈرگز‘‘ پینل کے روبرو بیان میں راڈریگو ڈیوٹرٹ نے کہا کہ میں نے مجرموں کا صفایا کرنے کے لیے مجرموں ہی پر مشتمل اسکواڈ رکھا تھا اور اس پر مجھے ذرا سی بھی شرمندگی نہیں۔ جو لوگ معاشرے کو تنکوں کی طرح بکھیرنے پر تُلے رہتے ہیں اُن کے لیے دل میں ذرا سی بھی ہمدردی محسوس کرنا ریاست اور اس میں بسنے والوں کے جذبات سے غداری ہے۔
ڈیوٹرٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں جب صدر بنا تب میرے لیے لازم ہوگیا کہ ریاست کی حدود میں بسنے والے تمام لوگوں کے لیے وہ سب کچھ کروں جو لازم ہے۔ بہبودِ عامہ یقینی بنانے کے لیے معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا بنیادی شرط ہے۔ جو لوگ جرم کی دنیا میں آگے بڑھتے ہیں وہ معاشرے کو پس ماندہ رکھنے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ اُن سے کسی بھی درجے میں ہمدردی نہیں رکھی جاسکتی۔ اُن سے نجات پانا لازم ہے تاکہ معاشرہ پروان چڑھے، زندگی کا سفر ڈھنگ سے آگے بڑھے۔
راڈریگو ڈیوٹرٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے پہلے میئر کی حیثیت سے اور پھر عہدِ صدارت میں کم و بیش 30 ہزار مجرموں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ اور خرید و فروخت میں ملوث کئی مجرموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے گرایا بھی۔ اس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تاہم انہوں نے تنقید کی پروا کیے بغیر مجرموں کا صفایا کرنے کی مہم جاری رکھی اور کبھی اس حوالے سے شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔

