اسرائیل کی ایک جیل میں مقید معروف فلسطینی رہنما مروان برغوثی پر حملے کی اطلاعات ملی ہیں۔ مروان برغوثی کا تعلق فلسطینیوں کے فتح گروپ سے ہے اور حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے جن فلسطینی قیدیوں کو رہا کرایا جانا ہے ان میں مروان برغوثی بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیل میں مروان برغوثی پر حملہ کیا گیا ہے۔ وہ اس وقت عمر کی چھٹی دہائی میں ہیں۔ مروان برغوثی کا شمار ان فلسطینی رہنماؤں میں ہوتا ہے جن سے اسرائیلی سیاست دان ایک مدت تک رابطے میں رہے ہیں اور ان کی کوشش رہی ہے کہ مروان کو رہائی دلواکر فلسطینی علاقوں میں اعتدال پسند انتظامیہ کا قیام یقینی بنایا جائے۔
مروان برغوثی کو فلسطینی اتھارٹی کے زیرِانتظام علاقوں میں اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ اسرائیلی قیادت اب بھی اس بات کی توقع رکھتی ہے کہ مروان برغوثی کے ذریعے حماس کو اعتدال پسندی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے اور ایک ایسی حکومت قائم کی جاسکتی ہے جو اسرائیل پر حملوں پر یقین نہ رکھتی ہو۔

