راولپنڈی: بھارت میں قید حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک کا کہنا ہے کہ ورلڈ آرڈر ختم ہو رہا ہے، کشمیریوں پر ظلم جاری رہا تو نیوکلیئر وار کی جانب معاملہ چلا جائے گا،مسلح جدوجہد کے علاوہ کشمیریوں کے پاس کوئی آپشن نہیں۔
راولپنڈی چیمبرمیں کشمیر اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ فلسطین میں جو ہو رہا ہے سب کچھ براہ راست دکھایا جاتا ہے جبکہ کشمیر میں ہونے والے ظلم دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، کشمیریوں میں پکنے والا لاوا جب پھٹے گا تو معیشت تباہ ہو جائے گی، مقبوضہ کشمیر میں 5ہزار مساجد کو شہید کرکے مندر تعمیر کیے جا رہے ہیں،کشمیر میں 50 لاکھ ہندوں کو ووٹر حقوق دے دیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی معیشت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، راولپنڈی چپمبر ہمیشہ کشمیر کاز کے لیے صف اول میں رہا، کسی قوم کو توڑنا، تحریک کو کمزور کرنے کیلیے ملک کی معیشت کو کمزور کیا جاتا ہے۔
مشال ملک نے مزید کہا کہ کشمیر میں ڈریکونیین لاز نافذ ہیں، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں ایکڑ اراضی بڑے بھارتی کاروباری حضرات کو الاٹ کی جا رہی ہے اور کشمیریوں کے ساتھ غلاموں والا سلوک کیا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہماری سیاسی قیادت کو آئیسولیٹ اور خاموش کیا جا رہا ہے، بھارت پر اگر دبا نہ ڈالا گیا تو خطے میں کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔
مشال ملک نے کہا کہ افغانستان میں جن طاقتوں نے سرمایہ کاری کروائی تھی دیکھ لیں ان کے ساتھ کیا ہوا، اگر آپ کشمیر میں بھی کرفیو لگا کر سرمایہ کاری کروائیں گے تو افغانستان کی مثال آپ کے پاس موجود ہے، مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے تاکہ دیرپا امن ہو۔

