اسلام آباد( نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل قومی اسمبلی میں جمعہ کو پیش کیا جائے گا،پارلیمانی ذرائع کے مطابق عدالت عظمیٰ چیف جسٹس سمیت 23ججز پر مشتمل ہو گی ،اس بل کے تحت عدالت عظمیٰ ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 ہوجائے گی ،ججز کی تعداد میں اضافے کا بل حکومت کی جانب سے پیش کیا جائے گا،یہ بل نجی کارروائی کے دن بیرسٹر دانیال چودھری پہلے ہی پیش کرچکے ہیں،اس بل کو حکومت اون کرچکی ہے ،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں بھی ترمیم پر بھی مشاورت جاری ہے،بل کی منظوریکیلیے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ تک توسیع کردی گئی ،ترمیم شدہ شیڈول کے مطابق اجلاس منگل کو ختم ہوجانا تھا۔ عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے لیے ترمیمی بل 2024ء بطور منی بل لایا جائے گا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ عدالت عظمیٰ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں ججز کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔علاوہ ازیںچیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے اپوزیشن سے نام مانگ لیے۔سینیٹ کااجلاس پریذائڈنگ افسر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت شروع ہوا، ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹرز کی عدم حاضری کا سلسلہ جاری رہا جہاں کاروائی کے آغاز میں صرف 8 سینیٹرز موجود تھے۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کورم کو مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جب آئینی ترمیم ہوتی ہے تو سارے سینیٹرز یہاں پہنچا دیے جاتے ہیں، یہ ایوان نامکمل ہے اور اس کے فیصلوں پر بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹرز نے ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اس دوران کورم نامکمل ہونے پر سینیٹ اجلاس کو 30 منٹ کے لیے ملتوی کیا گیا، وقفے کے بعد سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جوڈیشل کمیشن کے لیے ممبران کے حوالے سے خط لکھا ہے، جوڈیشل کمیشن کے لیے نام جلد از جلد دے دیں۔اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے جواب دیا کہ اس حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے، سینیٹ کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کاہاؤس بھی نامکمل ہے، اپوزیشن اور حکومت مل کر ایک قرارداد منظور کرائیں کہ ہاؤس مکمل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں، خیبر پختونخوا میں الیکشن کروائے جائیں، ایوان بالا کا مکمل ہونا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے بھی ایک فیصلہ دیا ہوا ہے لیکن اس پر آج تک عمل نہیں ہوا ہے، اس ملک میں نہ آئین کی کوئی قدر ہے، نہ ہی سپریم کورٹ کی۔شبلی فراز نے کہا کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف فیصلے دیے، بظاہر لگتا ہے بانی پی ٹی آئی اور پاکستان تحریک انصاف کے بغیر سیاسی سرگرمی ممکن ہی نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اگر زبردستی سے آپ کسی کی وفاداری خرید کر آئین سازی کرتے ہیں تو یہ آپ کا ظرف ہے، ہمارے اقلیتی ممبر کو ایک سینیٹر نے فون کیا کہ اتنے پیسہ لیں اور ووٹ دیں، اس پر اقلیتی سینیٹر نے کہا کہ ہمارا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا، جس پر ہمارے سر شرم سے جھک گئے۔سینیٹر ناصر بٹ نے سوال کیا کہ اس سینیٹر کا نام بتائیں، شبلی فراز نے جواب دیا کہ میں آپ سے مخاطب نہیں ہوں، میں چیئرمین سینیٹ سے بات کررہا ہوں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اس ترمیم کی وجہ سے عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ابھی 26 ویں ترمیم ہضم نہیں ہوئی، اور 27ویں ترمیم کی بات ہورہی ہے، ہم قانونی و سیاسی جنگ لڑتے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی نے کوئی سیاسی معاہدہ نہیں کیا ہے۔ شبلی فراز کا کہنا ہے کہ جس طرح نوازشریف اور آصف زرداری واپس آئے ہیں بانی پی ٹی آئی بھی آ سکتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو میں رہنما پی ٹی آئی شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان بڑی آسانی سے جیل سے نکل سکتے ہیں۔ جیسے نواز شریف اور آصف زرداری واپس آئے بانی پی ٹی آئی بھی آسکتے ہیں۔ ضمیر کی مار بڑی جان لیوا ہوتی ہے۔ عوام کو نظر آرہا ہے کہ ترمیم پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کے لیے کی گئی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ایوان میں قرارداد پیش کی جائے کہ 2024 کے پی الیکشن کی فنگر پرنٹ تصدیق کرائی جائے، اگر 50 فیصد سے زیادہ تصدیق درست ہوئی تو میں خاموش ہو جاؤں گا۔
