کابل : افغانستان میں طالبان نے خواتین پر ایک اور پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں غیر محرم مردوں سے بات چیت کرنے سے روک دیا ہے۔ اس نئے حکم کے تحت خواتین کو غیر محرم مردوں سے کسی بھی قسم کی گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔
طالبان کے وزیر برائے vice اور virtue، محمد خالد حنفی، نے ایک آڈیو بیان میں وضاحت کی کہ کسی خاتون کی آواز ” خاتون ” تصور کی جاتی ہے، جسے عوام میں سننا ممنوع ہے ، کوئی بھی خاتون عوامی جگہوں پر کھڑے ہوکر دوسری خاتون سے بات نہیں کر سکتی کیونکہ اس سے دوسرے لوگ اس خاتون کی آواز سن سکتے ہیں ۔
وزیر نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اخلاقی قوانین میں کسی بھی غیر محرم کی آواز سننا حرام ہے اس لیے اخلاقی قوانین کی پاسداری ہماری اولین ترجیحات میں سے ہیں ، اس قانون سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچی اور نا ہی اس میں خواتین کے حقوق پر پابندی عائد ہوئی ہے ۔
یاد رہے کہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے خواتین کے حقوق پر زبردست پابندیاں عائد کی ہیں، جو کہ 1990 کی دہائی کی ان کی حکومت کی یاد دلاتی ہیں۔ ان میں لڑکیوں کی تعلیم کو ابتدائی اسکول تک محدود کرنا اور حکومت و بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندیاں شامل ہیں ۔
پابندیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ خواتین کو مرد سرپرست کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں اور انہیں مکمل جسم اور چہرہ ڈھانپنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جہاں خواتین نیوز اینکرز کو ٹی وی پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سمیرا جو طبعی ماہر ہیں ان کا کہنا تھا کہ خواتین صحت کارکنوں کو مریضوں کے مرد رشتہ داروں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، جس کی وجہ سے طبی دیکھ بھال میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ اس نے بتایا طالبان ہمیں چیک پوائنٹس پر بات کرنے یا کلینک میں مرد رشتہ داروں سے طبی امور پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔
اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر، رچرڈ بینٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے قوانین میں خواتین کے لیے تعلیم، روزگار، سفر اور عوامی مقامات تک رسائی جیسے بنیادی حقوق محدود کر دیے گئے ہیں، جبکہ انہیں غیر ایمان والوں کے سامنے خود کو ڈھانپنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بالغ مرد اور خواتین جو رشتہ دار نہیں ہیں ، ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے ، بات چیت نہیں کر سکتے ، اور مسلم خواتین کو غیر مسلم کے سامنے مکمل پردے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ یہ اقدامات خواتین کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہے ہیں ۔

