بیروت: اسلامی مزاحمتی گروپ آپریشن روم نے اپنے بیان میں “اسرائیلی” جارحیت کے خلاف عزمِ وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے عہد کیا کہ فتح تک جدوجہد جاری رہے گی ، اسرائیل کو شکست دینے تک مزاحمت نہیں رکے گی ۔
بیان میں مزاحمتی جنگجوؤں کی کارکردگی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، جنہوں نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں “اسرائیلی” فوج کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔
مزاحمت کے مطابق، دشمن کے مختلف علاقوں میں زمینی اور فضائی حملوں کا موثر دفاع کیا گیا، جس میں درجنوں ٹینک تباہ کیے گئے اور متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ مزاحمتی جنگجوؤں نے “خیبر” آپریشنز کے تحت دشمن کے اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا، جس سے مقبوضہ علاقوں میں لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہونا پڑا۔
1. زمینی جھڑپیں:
28 اکتوبر 2024 کو “اسرائیلی” فوج نے شدید فضائی کور کے تحت بڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کیا۔ اسلامی مزاحمت نے دفاعی فائر اسٹریٹجی کا مؤثر انداز میں استعمال کیا جس کے نتیجے میں دشمن کے چار ٹینک تباہ اور کئی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔ بڑی تعداد میں دشمن فوجیوں اور گاڑیوں پر میزائل حملے کیے گئے جس سے دشمن میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دشمن کے پچھلے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور متعدد راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں “اسرائیلی” افواج کو سرحدی مقامات سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
2. خیبر آپریشنز:
شدید نگرانی کے باوجود، مزاحمت گروپ نے “خیبر” آپریشنز کے سلسلے میں اسٹریٹجک اہداف پر حملے تیز کر دیے ہیں ۔ یکم اکتوبر 2024 سے اب تک 56 آپریشنز کیے گئے جنہوں نے مقبوضہ علاقوں میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور کر دیا۔ 5,000 مربع کلومیٹر سے زائد علاقے پر اثرات مرتب ہوئے، تعلیمی سرگرمیاں، کام اور فضائی ٹریفک بار بار معطل ہو گئے۔
3. اسلامی مزاحمتی آپریشن روم کے اہم نکات:
اسلامی مزاحمت گروپ کے مطابق “خیبر” آپریشنز ایک منظم اور واضح حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔ مقبوضہ علاقوں کے باشندوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان علاقوں کو خالی کر دیں۔ “اسرائیلی” فوج کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسلامی مزاحمت گروپ نے دشمن کو سرحدی علاقوں تک محدود رکھا ہے اور وہ آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔
مزاحمتی رہنما شہید سید حسن نصر اللہ کی چہلم کی یاد پر اسلامی مزاحمت نے اپنے مقصد کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

