تل ابیب:اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر پر سابق وزیر دفاع یواف گیلانٹ اور فوجی اہلکاروں کی حساس ویڈیوز جمع کرنے کا الزام لگا ہے، جس پر نیتن یاہو کی دفتری انتظامیہ نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے یواف گیلانٹ کو بدنام کرنے کے لیے اس کی جھگڑے کی وڈیو بنائی تھی، جس میں سابق وزیر دفاع ایک سکیورٹی گارڈ کے ساتھ جھگڑ ا کررہے ہیں، اسرائیلی ایجنسی نے اس حوالے سے تحقیقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وڈیو بنانے میں2 سینئر حکام حساس ویڈیوز حاصل کرنے میں ملوث تھے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں سابق وزیر دفاع یواف گیلانٹ سے اختلاف ہونے کی صورت میں عہدے سے برطرف کردیا تھا جبکہ اسرائیلی پولیس وزیر اعظم ہاؤس کے حوالے دو علیحدہ معاملات کی تحقیقات کررہی ہے،ان میں سے ایک معاملہ اسرائیلی فوج کے حساس ترین دستاویزات کی چوری اور وڈیو لیک کا معاملہ ہے۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے اسرائیلی پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کیا ہے، جس میں وزیر اعظم کے دفتر کے ساتھ کام کرنے والا ایک ترجمان بھی شامل ہے، جن سے حساس مواد کو لیک کرنے میں ان کے ممکنہ ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں بین یامین نیتن یاہو کی حکومت کو کافی مشکلات کا سامنا ہے، جس میں سابق وزیر دفادع کی برطرفی اور نیز غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے کے پیش نظر مخالفین میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پورے ملک میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم سے مسلسل استعفی کا مطالبہ کیا جارہاہے۔

