ٹھٹھہ، بھکر، ایبٹ آباد (صباح نیوز) ملک بھر میں دھند اور اسموگ کے باعث مختلف مقامات پر ٹریفک حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوگئے۔ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں اسموگ کے باعث4 گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، حادثے میں 6 افراد جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہوگئے۔ ایمبولینس تاخیر سے پہنچنے کے سبب زخمی تڑپتے رہے جبکہ زخمیوں کو گھارو ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا جہاں سے4 شدید زخمیوں کو تشویشناک حالت میں کراچی سول اسپتال روانہ کیا گیا۔ دوسری جانب پنجاب ضلع بھکر میں ملتان سے راولپنڈی جانے والی بس ٹرالر سے ٹکرا گئی، حادثے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔ تیسرا حادثہ خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کی شاہراہ ریشم پر پیش آیا جہاں3 موٹر سائیکل سوار ٹرک کے نیچے آگئے، حادثے میں ایک جاں بحق اور2 زخمی ہوئے۔ کروڑ لعل عیسن میں بھی حد نگاہ کم ہونے سے متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئی، حادثے میں 5 افراد زخمی ہوئے۔پنجاب میں شہریوں کو دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی اطلاع 15 پر دینے کی ہدایت کردی گئی۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ احمد جاوید قاضی نے شہریوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھواں چھوڑتی گاڑیاں بند کی جائیں گی‘ پرائیوٹ گاڑیوں کے مالکان کو 7 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی سروس یقینی بنائیں ورنہ بھاری چالان ہوگا۔ پنجاب میں شدید اسموگ اور دھند کی وجہ سے ملتان کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا ہے، حد نظر انتہائی کم ہونے کی وجہ سے ملتان کی 6 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اسموگ اور انتظامی مسائل سے ملک بھر کی 34 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، مسقط سے ملتان کی پرواز پی کے 172 کو حد نظر کم ہونے پر اسلام آباد جبکہ جدہ سے ملتان پہنچنے والی نجی ائر کی پرواز پی ایف 723 کو لاہور اتارا گیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ دوحا ملتان کی غیر ملکی ائر کی 2 پروازیں کیو آر 616، 617 جدہ ملتان اور دبئی کی 2 پروازیں پی اے871 ایف زیڈ 325، 326 تاخیر کا شکار ہوئیں، مسقط، کراچی، دوحا سے لاہور کی پروازوں کی آمد اور روانگی میں بھی تاخیر ہوئی۔ شدید دھند اور اسموگ کی وجہ سے موٹروے ایم 2 لاہور سے کوٹ مومن تک بند کردی گئی۔ اس کے علاوہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کو بھی بند کردیا گیا جبکہ موٹروے ایم 4 فیصل آباد سے ملتان اور ایم 5 ملتان سے سکھر تک بند کردی گئی ہے۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے مصنوعی بارش سے بھی اسموگ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، چین اور انڈیا کی طرز پر مسٹ کینن استعمال کرنا ہوں گے۔پنجاب حکومت نے اسموگ میں کمی کے لیے مصنوعی بارش کا منصوبہ بنایا تھا تاہم اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ مصنوعی بارش کے لیے 50 فیصد تک بادلوں کا ہونا ضروری ہے لیکن حالیہ سیزن میں بادل بننے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔پنجاب یونیورسٹی کے ماہرماحولیات ڈاکٹر ذوالفقار علی کا کہنا ہے مصنوعی بارش اس وقت ممکن ہے جب قدرتی طور پر بادل موجود ہوں اور ان پر کیمیکل کا چھڑکاؤ کیا جائے۔ ایشین کنسلٹنگ انجینئرز کے سربراہ اور ماہر ماحولیات علیم بٹ کہتے ہیں کہ اسموگ کے اثرات کو فوری کم کرنے کے لیے ہمیں بھارت اور چین کی طرز پر مسٹ (دھند) کینن استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ جن سے 40 سے 50 فٹ تک پانی کا چھڑکاؤ کیا جاسکتا ہے۔ تمام اہم سڑکوں پر مسٹ کینن چلائی جائیں تاکہ وہاں پیدا ہونے والے گاڑیوں کے امیشن کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ان دنوں چونکہ ہوا کی رفتارکم ہوتی ہے اور فضا میں موجود مٹی، دھول اور دیگرذرات زیادہ بلندی تک نہیں پہنچ پاتے اور وہ دھند اور نمی میں شامل ہوکر اسموگ بنا دیتے ہیں اس لیے مسٹ کینن سے اسموگ کی اس تہہ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
